لندن : نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بحری قزاقوں کے ہاتھوں چار ماہ سے یرغمال پاکستانیوں کی رہائی سے متعلق بڑا بیان دیا ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحری قزاقوں کو تاوان دینے کی بات نہیں مانی جا سکتی کیونکہ عالمی قوانین کے مطابق مغویوں کی رہائی کے لیے تاوان نہیں دیا جا سکتا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ اگر پیسے ملنا شروع ہو گئے تو پھر ہماری ترجیح قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال 10 پاکستانیوں کو بازیاب کرانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قزاقوں کے ہاتھوں پھنسے 10 پاکستانیوں کی رہائی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں جن کی تفصیلات ابھی نہیں بتائی جاسکتیں، کوشش ہے کسی بھی طریقے سے ملاحوں کو چھڑایا جائے۔

دریں اثنا اسحاق ڈار نے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے سیکرٹری جنرل ارسینیو ڈومنگیز سے لندن میں ملاقات کی، جس میں بحری سلامتی و تحفظ، ضابطہ جاتی اصلاحات اور پاکستان کے بحری شعبے کی ترقی سمیت پاکستان اور آئی ایم او کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

نائب وزیراعظم نے ایم ٹی آنر 25 پر یرغمال بنائے گئے 10 پاکستانی ملاحوں کی بحفاظت رہائی کے لیے جاری کوششوں میں آئی ایم او کے سیکرٹری جنرل کی معاونت پر شکریہ ادا کیا، انہوں نے تمام پاکستانی ملاحوں کی جلد واپسی کے لیے ادارہ جاتی سطح پر فوری اور مؤثر مداخلت پر زور دیا۔

واضح رہے کہ صومالیہ میں بحری جہازکو یرغمال بنائے 120 دن (چار ماہ) گزر گئے ہیں، لیکن 10 پاکستانیوں سمیت عملے کی رہائی ممکن نہ ہو سکی ہے۔