کشمیری قوم امریکی سفیر کے بیان کو یکسر مسترد کرتی ہے، مسئلہ کشمیر ایک تسلیم شده بین الاقوامی تنازع ہے

اسلام آباد: آل جموں و کشمیر پیپلز فریڈم کانفرنس کے چیئرمین کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور سابق کنوینر سید یوسف نسیم نے سرینگر میں امریکی سفیر کے حالیہ بیان کو حقائق کے منافی اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے امریکی پالیسی سے انحراف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری قوم اس بیان کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔

پریس کے لیے جاری اپنے ایک بیان میں سید یوسف نسیم نے کہا کہ امریکی سفیر کی جانب سے سرینگر میں دیا گیا بیان زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پوری ریاست جموں و کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے جس کی متنازعہ حیثیت سے متعلق اقوام متحدہ کی متعدد قراردادیں موجود ہیں اور ان قراردادوں میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ایک واضح فریم ورک بھی دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی یورپی یونین اور عالمی برادری اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ مسئلہ جموں و کشمیر ایک حل طلب بین الاقوامی تنازع ہے، جس کا منصفانہ اور پائیدار حل کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

سید یوسف نسیم نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران کشمیری عوام نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، ہزاروں خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہوئے اور پورے خطے میں قربانیوں اور جدوجہد کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے مختلف علاقوں، شہروں، دیبات اور اضلاع میں موجود شہداء کے مزارات اس طویل اور دردناک تاریخ کی گواہی دیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری قیادت کے متعدد رہنما طویل عرصے سے بھارتی جیلوں میں قید ہیں اور کشمیری عوام کو سخت قوانین اور مختلف پابندیوں کا سامنا ہے۔ ان حالات میں کسی بھی بین الاقوامی شخصیت کی جانب سے ایسا بیان جو مسئلہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو نظر انداز کرے کشمیری عوام کے جذبات کو مجروح کرنے اور ان کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔

سید یوسف نسیم نے کہا کہ امریکہ سمیت عالمی طاقتوں نے مختلف اوقات میں مسئلہ کشمیر کے پرامن حل اور خطے میں امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر کے اس مؤقف کا حوالہ دیا کہ اگر ہندوستان اور پاکستان چاہیں تو امریکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے اور ثالثی میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی سفیر کے حالیہ بیان نے ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو گہری تشویش اور دکھ سے دوچار کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایک ذمہ دار عالمی طاقت کے نمائندے کو ایسے بیانات دیتے وقت تاریخی حقائق اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے جذبات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

پیپلز فریڈم کانفرنس کے چیئرمین نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام خواہ وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں آباد ہوں، بشمول آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے پلیٹ فارم سے کشمیری عوام کی سیاسی اور جمہوری جدوجہد جاری ہے اور اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں، مذاکرات اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل تک ہر سطح اور ہر محاذ پر جاری رکھا جائے گا۔

سید یوسف نسیم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے اور ہندوستان و پاکستان کے درمیان مذاکرات کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام کو بھی ایک بنیادی فریق کی حیثیت سے شامل کرتے ہوئے مسئلے کا ایسا حل تلاش کیا جائے جو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے مطابق ہو۔