اسلام آباد: نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر شمس الر حمن سواتی نے سورینج، کوئٹہ میں پیش آنے والے المناک کوئلہ کان سانحہ، جس میں 34 کان کن مزدور جاں بحق ہوئے، پر وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کو ایک تفصیلی مراسلہ ارسال کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی آزاد تحقیقات، ذمہ داران کے احتساب، بلوچستان مائنز ایکٹ کی فوری منظوری اور کان کنوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہنگامی اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے.
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ سورینج کا سانحہ صرف ایک صنعتی حادثہ نہیں بلکہ ریاست، متعلقہ اداروں، مائن مالکان اور نگرانی کے نظام کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے،جاں بحق ہونے والے 34 مزدوروں میں سے 24 کا تعلق ضلع شانگلہ کے گاؤں پیر آباد جبکہ باقی 10 دیگر علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک ہی خاندان کے چھ افراد اس حادثے میں جاں بحق ہوئے جبکہ ایک نوجوان اپنی شادی کے صرف ایک ہفتے بعد زندگی کی بازی ہار گیا، جس سے متعدد خاندان ناقابلِ تلافی صدمے سے دوچار ہوئے، مراسلے میں نشاندہی کی گئی کہ یہ اسی مائن اونر گروپ سے وابستہ تیسرا بڑا حادثہ ہے،جون 2024 میں 11، جنوری 2025 میں 12 اور اب 34 مزدوروں کی ہلاکت اس بات کا ثبوت ہے کہ حفاظتی انتظامات اور نگرانی کے نظام میں سنگین خامیاں موجود ہیں، لہٰذا ان حادثات کی آزاد، غیر جانبدارانہ اور سائنسی بنیادوں پر تحقیقات ناگزیر ہیں،نیشنل لیبر فیڈریشن نے اپنے مطالبات میں کہا ہے کہ ایک خودمختار اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے جس میں بین الاقوامی مائن سیفٹی ماہرین، پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن (PMDC) کے تکنیکی ماہرین، پیشہ ورانہ صحت و تحفظ (OSH) کے ماہرین، جیولوجسٹ، وینٹیلیشن انجینئرز، ٹریڈ یونین نمائندگان اور دیگر آزاد ماہرین شامل ہوں۔ کمیشن کو مکمل قانونی اختیارات دیے جائیں تاکہ حادثے کی وجوہات، ذمہ داران اور حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزیوں کا تعین کرکے مقررہ مدت میں رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جا سکے۔مراسلے میں حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مجوزہ بلوچستان مائنز ایکٹ کو فوری طور پر منظور کرکے نافذ کیا جائے، صوبے بھر کی تمام کوئلہ کانوں کا جامع سیفٹی آڈٹ کرایا جائے، چیف انسپکٹر آف مائنز کے ادارے کو مکمل انتظامی خودمختاری اور جدید وسائل فراہم کیے جائیں، غفلت کے مرتکب افسران اور مائن مالکان کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے، تمام کان کنوں اور مائن عملے کے لیے پیشہ ورانہ صحت و تحفظ (OSH) کی لازمی تربیت کا نظام بنایا جائے، خصوصی مائن ریسکیو فورس اور ایئر ایمبولینس کی مستقل سہولت فراہم کی جائے، جبکہ شہداء کے خاندانوں کے لیے مالی معاوضہ، روزگار، تعلیم، علاج، رہائش اور سماجی تحفظ پر مشتمل جامع بحالی پیکیج کا اعلان کیا جائے.
مراسلے میں چیف انسپکٹر آف مائنز بلوچستان، مائنز انسپکٹوریٹ، مائنز لیبر ویلفیئر، پی ڈی ایم اے بلوچستان، ریسکیو 1122، الخدمت، ایف سی بلوچستان، پولیس، نیشنل لیبر فیڈریشن بلوچستان اور تمام رضاکاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا گیا جنہوں نے انتہائی مشکل حالات میں مسلسل ریسکیو آپریشن جاری رکھا،خط کے اختتام پر وزیراعلیٰ بلوچستان پر زور دیا گیا کہ وہ ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے اس سانحے کو بلوچستان کی کان کنی کی صنعت میں اصلاحات، مؤثر احتساب، مضبوط قانون سازی اور کان کنوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ بنائیں تاکہ مستقبل میں ایسے المناک حادثات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔