اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نےکہا ہےکہ حکومت نے ہمیشہ یہ مؤقف اپنایا ہے کہ صحت کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے،ہرقیدی کو علاج معالجے اورصحت کی سہولیات کی فراہمی اس کا حق ہے۔
وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نےوزیرمملکت برائےداخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو بھی صحت کی تمام ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، انکے علاج کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں۔
عطا تارڑکاکہنا تھاکہ بانی پی ٹی آئی ماضی میں اپوزیشن کوبیماری کےمعاملے پرطعنے دیتےرہےاور کہتے تھے کہ لوگ جیل جاتے ہیں تو بیمارہوجاتےہیں،لیکن ہمارا یہ وطیرہ نہیں کہ کسی کی صحت پر سیاست کی جائے۔
وزیرمملکت برائےداخلہ طلال چوہدری نےکہا کہ دھمکیوں، ڈکٹیٹ کرنے،سڑکیں بلاک کرنے یا حملوں سے ملاقات نہیں ہوگی،حکومت کامؤقف واضح ہےکہ جیل مینوئل کے تحت عدالت ملاقات کا حکم دے سکتی ہے،ہرقیدی کو علاج اور رہنےکی مناسب سہولت ملنی چاہیے،کسی رپورٹ پرحکومت نے بحث کی ہےنہ کرے گی،انکےترجمان دن رات ہمارےقائدین کی رپورٹس لہراتےتھے،بیگم کلثوم نوازکو بیمار دیکھنے کیلئےبغیر اجازت اسپتال میں گھس گئے تھے۔
انہوں نےکہا دھمکی،ڈکٹیٹ کرنے،سڑک بلاک کرنے،حملے کرنے سے ملاقات نہیں ہوگی،حکومت کا مؤقف کلیئر تھا جیل مینوئل کے تحت عدالت ملاقات کا کہہ سکتی ہے،یہ وہی عدالتیں ہیں جنہوں نے26اور27 ویں ترمیم کا حلف اٹھایا ہے،جوڈیشل کونسل کی میٹنگ کا بائیکاٹ کرکےکہاگیا عدالت، پارلیمنٹ کو نہیں مانتے، اسی پارلیمنٹ کی ترامیم،بننے والی عدالت کے فیصلےکو روشنی کی کرن کہہ رہے ہیں، جج صاحبان کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے فیصلے کو این آر او سے جوڑاجارہاہے۔
مزیدکہا بانی پی ٹی آئی نےاپنےڈاکٹرزبھیجے،نوازشریف کی رپورٹ بنانےوالےڈاکٹروں کو اٹھایاگیا،بیماری کو کمزوری سمجھ کراس پرسیاست کرناہماری قیادت اورکارکنوں کاظرف نہیں،انکا سیاسی کرداردیکھتے ہوئےعدالت نےکہا آپ سیاست نہیں کریں گے، استعفوں،اسمبلیاں توڑنے،9مئی،26نومبر کے بعد صرف ہمدردی کارڈ رہ گیا۔