ذمہ دار افسران کو تحقیقات مکمل ہونے تک عہدوں سے ہٹایا جائے، سماجی رہنماء
اسلام آباد: پارلیمانی کمیشن برائے انسانی حقوق کے سابق کمشنر چوہدری شفیق نے پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئےمطالبہ کیا ہےکہ سانحے کی شفاف اور آزاد عدالتی انکوائری کرائی جائے، ذمہ دار افسران کو تحقیقات مکمل ہونے تک عہدوں سے ہٹایا جائے اور تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے، 14 معصوم بچوں کی ہلاکت کو محض حادثہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، واقعے میں غفلت، فائر سیفٹی، عملے کی موجودگی، ایمرجنسی رسپانس اور ہسپتال انتظامیہ کی ذمہ داری کا تعین ضروری ہے۔ واقعے میں مبینہ غفلت اور حکومتی نگرانی کے نظام کا بھی تعین ہونا چاہیے۔سٹیزنز فورم کے کنوینرولیم پرویز ،سماجی رہنماء ڈاکٹر بشیر حسین شاہ ، حبیبہ طلعت،اور دیگر شہری و انسانی حقوق کے نمائندوںکے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےچوہدری شفیق نے کہا کہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری شہریوں، خصوصاً بچوں کی جان و مال کا تحفظ ہے، لیکن بار بار کے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات اور گورننس کا نظام شدید مسائل کا شکار ہے۔چوہدری شفیق نے کہا کہ عہدوں پر بیٹھے افراد خود کو احتساب سے بالاتر سمجھتے ہیں، اس لیے واقعے کی جوڈیشل انکوائری ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کنوینر سٹیزنز فورم کی حیثیت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور جن افراد کی ذمہ داری بنتی ہے انہیں ان کے عہدوں سے ہٹایا جائے تاکہ تحقیقات شفاف انداز میں آگے بڑھ سکیں۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو پہلے سے متعلقہ عہدوں پر موجود افراد کو ہٹا کر ماہرین، قانونی ماہرین اور جوڈیشل نمائندوں پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ انسانی حقوق کے زاویے سے بھی تحقیقات ہونی چاہئیں اور متعلقہ قومی انسانی حقوق اداروں کو اپنے مینڈیٹ کے تحت معاملے کا جائزہ لینا چاہیے۔ولیم پرویز نے کہا کہ اسلام آباد کے سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی، آلات اور حفاظتی انتظامات کے لیے مختص وسائل کا شفاف آڈٹ کرایا جائے