اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سانحہ پمز پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے انکوائری کمیٹی بنائی ہے ہمیں قیاس آرائی کے بجائے اس کی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے۔

فوسپاہ موبائل ایپ کی لانچنگ تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم نے پمز حادثہ کی تحقیقات کے لیے انڈی پینڈنٹ انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے جس کی کل تک عبوری انکوائری رپورٹ آجائے گی اور بہت ساری چیزیں کلیئر ہو جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ انکوائری کمیٹی کے ٹی او آرز ہی یہی تھے کہ وہ ذمہ داری کا تعین کرے، انکوائری کمیٹی ویڈیو فوٹیج سے دیکھ رہی ہے کہ کیا اتنا ریسپانس ٹائم تھا کہ آکسیجن پر انحصار کرنے والوں کو آکسیجن ہٹا کر جانیں بچانا تھیں، یہ ٹیکنیکل سوالات ہیں جن پر ہمیں کسی قسم کی پیش گوئی نہیں کرنی چاہیے یا قیاس آرائی سے کام نہیں لینا چاہیے۔ 

وفاقی وزیر قانون کے مطابق انسانی جان کی کوئی تلافی نہیں ہو سکتی، زیادہ ضروری بات ذمہ داری کا تعین کرنا ہے، دیکھنا ہے کہ کیا اس حادثے کے ہونے کے باوجود انسانی جانوں کو بچایا جا سکتا تھا اور ممکن تھا تو کوتاہی کہاں پر ہوئی؟ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کل خود کو احتساب کے لیے پیش کیا ہے۔ 

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر کے انتخاب پر ہماری سیاسی ٹیم بہتر جواب دے سکتی ہے، یہ سیاسی فیصلے ہوتے ہیں اس میں لکھے پڑھے رولز نہیں ہیں، آزاد کشمیر کا آئین اور قانون اجازت دیتا ہے تو کوئی قباحت نہیں ہے۔