واشنگٹن: امریکا اور وینزویلا کے درمیان تیل کے شعبے سے متعلق ایک بڑے معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاریخ کا سب سے بڑا تیل کا معاہدہ قرار دیا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق اس معاہدے کے تحت امریکا کو وینزویلا کے 65 ارب بیرل ثابت شدہ تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل ہو جائے گا، جس سے امریکی شہریوں کے لیے ملک میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے نجی کاروباری اداروں کی شراکت داری سے عبوری وینزویلا حکومت کے ساتھ یہ معاہدہ طے کیا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس ڈیل سے وینزویلا کی معیشت میں تقریباً 100 ارب ڈالر کی نجی سرمایہ کاری آئے گی اور امریکا کے تیل کے اسٹریٹجک ذخائر دگنے ہو جائیں گے۔

دوسری جانب، وینزویلا کی عبوری رہنما ڈیلسی روڈریگز نے بھی اس تاریخی معاہدے کی توثیق کرتے ہوئے اسے ملک کی معاشی بحالی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے بتایا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں وینزویلا کی حکومت کو 209 ارب ڈالر سے زائد کی ٹیکس آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔

تاہم، ماہرینِ توانائی نے اس انوکھے معاہدے پر کچھ تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔ یونیورسٹی آف ٹیکساس کے انرجی انسٹی ٹیوٹ کے سینئر محقق خورخے پینون کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ تیل کے ان اثاثوں کی منتقلی کا طریقہ کار کیا ہوگا اور آیا یہ کوئی خریداری ہے یا ٹائٹل کی منتقلی۔

یاد رہے کہ جنوری میں نکولس مادورو کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے وینزویلا امریکی دباؤ اور کڑی نگرانی میں کام کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس معاہدے کا بنیادی مقصد امریکی کمپنیوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا اور وینزویلا کے فرسودہ انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا ہے۔