مظفرآباد: سابق وزیراعظم آزاد کشمیر اور مرکزی رہنما مسلم لیگ (ن) راجہ محمد فاروق حیدر خان نے آزاد کشمیر میں موجودہ حکومتی اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ نظام کی ذمہ داری اقتدار کی پُرامن اور شفاف منتقلی میں معاونت کرنا ہے، نہ کہ ایسے فیصلے کرنا جن کا کوئی اخلاقی یا آئینی جواز نہ ہو۔
اپنے ایک بیان میں راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ محکمہ سروسز کی جانب سے وزیراعظم کی ہدایت پر آئین کی دفعہ 15(2) کی ذیلی شق 2 کے تحت جاری کیا جانے والا نوٹیفکیشن آئین اور ضابطے کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق مذکورہ شق اسی صورت میں نافذ ہوتی ہے جب اسمبلی تحلیل کی جائے، جبکہ اسمبلی کی آئینی مدت مکمل ہونے کی صورت میں متعلقہ آئینی شق کے تحت موجودہ کابینہ کے ارکان کو توسیع نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ آئین کی غلط تشریح کرتے ہوئے دو وزراء مقرر کیے گئے ہیں، جنہوں نے تاحال حلف بھی نہیں اٹھایا، اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ سرکاری امور کیسے انجام دے سکتے ہیں۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ 2021 میں مسلم لیگ (ن) کو کامیابی نہ ملنے کے باوجود اقتدار کی منتقلی کے درمیانی عرصے میں ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا جس سے آنے والی حکومت کے لیے مشکلات پیدا ہوں یا ایسے اقدامات کیے جائیں جو نئی حکومت کے اختیار میں آنے والے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ایسا کرنا پیپلز پارٹی کی روایت رہی ہے۔
راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ موجودہ وزیراعظم کے پاس اقتدار آنے والی حکومت کی امانت ہے اور امانت میں خیانت نہیں کی جاتی۔ نئی حکومت ان تمام اقدامات کا ازسرنو جائزہ لے گی۔
انہوں نے بیوروکریسی، بالخصوص اعلیٰ سرکاری افسران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی کے دباؤ میں آکر ’’موم کی ناک‘‘ نہ بنیں، کیونکہ بعد میں ان سے بھی ان فیصلوں کے بارے میں پوچھا جائے گا اور جوابدہی ان کے لیے مشکل ہو سکتی ہے۔
راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ شکست خوردہ شخص جو اس وقت وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھا ہے، اسے ایسے اقدامات سے باز رہنا چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران آزاد کشمیر کا انتظامی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے، جس میں وزرائے اعظم کے ساتھ ساتھ بیوروکریسی بھی ذمہ دار ہے اور مستقبل میں انہیں اپنے اقدامات کا جواب دینا ہوگا۔