اسلام آباد: نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے ایک اہم اجلاس سینیٹر طلحہ محمود کی رہائش گاہ پر چیئرمین صوبہ ہزارہ تحریک سردار محمد یوسف کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے مہمانِ خصوصی سابق وفاقی وزیر اطلاعات اور چیئرمین تحریکِ بحالی صوبہ بہاولپور محمد علی درانی تھے۔
اجلاس میں مرکزی کوآرڈینیٹر صوبہ ہزارہ تحریک پروفیسر سجاد قمر، رکن قومی اسمبلی بابر نواز، چیئرمین علماء و مشائخ کونسل مولانا سید چراغ الدین شاہ، کوآرڈینیٹر قاری محبوب الرحمن اور صوبہ اسلام آباد و تحریک صوبہ پوٹھوہار کے رہنما ایم ساجد عباسی سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔
سردار محمد یوسف نے محمد علی درانی کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ہزارہ اور بہاولپور سمیت نئے صوبوں کے قیام کی جدوجہد طویل عرصے سے جاری ہے۔ ان کے مطابق ہزارہ اور بہاولپور کے مطالبات خالصتاً انتظامی بنیادوں پر ہیں اور چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام سے ملکی معیشت اور نظامِ حکمرانی کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہزارہ قدرتی وسائل، ڈیمز، حطار انڈسٹریل ایریا اور سیاحتی مقامات سے مالا مال ہے، جبکہ پارلیمان میں بھی ہزارہ صوبے کے حوالے سے قومی قیادت کے اتفاقِ رائے کو عملی شکل دینے کی ضرورت ہے۔
محمد علی درانی نے کہا کہ قومی قیادت نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر متحرک ہو چکی ہے۔ ہزارہ اور بہاولپور سمیت نئے صوبوں کا قیام ملک میں سیاسی استحکام، قومی یکجہتی اور عوامی محرومیوں کے خاتمے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو نئے صوبوں کے مطالبے کے لیے دوبارہ عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا جائے گا۔
سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ عوام کی محرومیوں کا فوری ازالہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق ہزارہ سمیت دیگر علاقوں کے وسائل سے مقامی عوام کو مناسب حصہ ملنا چاہیے اور مسائل کے حل کے لیے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہوگا۔
اجلاس کے شرکاء نے ہزارہ، بہاولپور، مالاکنڈ، اسلام آباد اور پوٹھوہار سمیت مختلف علاقوں کے لیے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔ رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس مقصد کے لیے سیاسی اور عوامی سطح پر جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔