اسلام آباد: نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اردن کے دارالحکومت عمان میں منعقدہ وزارتی اجلاس برائے القدس میں شرکت کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

اپنے خطاب میں اسحاق ڈار نے اسرائیل کے غیر قانونی قبضے، بستیوں کی توسیع اور القدس الشریف کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان القدس میں مسلم اور مسیحی مقدس مقامات پر ہاشمی سرپرستی کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔

وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا واحد راستہ 1967ء سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر مربوط فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

دورے کے دوران اسحاق ڈار نے اردن کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ ایمن الصفدی سمیت الجزائر، صومالیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے دوطرفہ ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ساتھ آر-4 اجلاس میں بھی شرکت کی۔

وزارتی اجلاس کے موقع پر نائب وزیر اعظم نے دیگر معزز شخصیات کے ہمراہ اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم سے بھی ملاقات کی، جس میں القدس اور فلسطین کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق پاکستان، اردن، عرب اور اسلامی ممالک اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر مسئلہ فلسطین کے منصفانہ، دیرپا اور جامع دو ریاستی حل کے فروغ کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

اجلاس کے بعد نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ عمان سے روانہ ہوگئے۔ انہیں اردن کی وزارتِ خارجہ کی ڈائریکٹر برائے انسانی حقوق سجا المجالی، پاکستان کے سفیر میجر جنرل (ر) خرم سرفراز خان اور سفارت خانے کے حکام نے رخصت کیا۔ اسحاق ڈار وطن واپسی سے قبل مدینہ منورہ میں مختصر قیام بھی کریں گے۔