اسلام آباد: ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے صدر ڈاکٹر ابوالخیر زبیر اور سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے مشترکہ بیان میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ’’مکہ دفاعی معاہدے‘‘ کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے عالمِ اسلام کے اتحاد کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

رہنماؤں نے کہا کہ طویل عرصے سے پوری امتِ مسلمہ کی خواہش رہی ہے کہ مسلم ممالک اپنے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے متحد ہوں۔ ان کے مطابق مسلم دنیا کے انتشار کے باعث فلسطین اور جموں و کشمیر کے عوام اپنے بنیادی انسانی حقِ آزادی سے محروم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک کو عسکری، اقتصادی، تہذیبی، سائنسی اور تحقیقی میدانوں میں باہمی تعاون بڑھانا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، ایران، افغانستان، عراق، لیبیا، شام، یمن اور برمی مسلمانوں کے خلاف جنگ، عدم استحکام اور مختلف سازشوں کا سلسلہ خطے کے لیے سنگین چیلنج ہے۔

ملی یکجہتی کونسل کے رہنماؤں نے کہا کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد خطے میں موجود امریکی اڈوں سے متعلق مسلم ممالک کے تحفظات مزید بڑھ گئے ہیں۔ ان کے بقول، مسلم ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے بیرونی طاقتوں پر انحصار کے بجائے مشترکہ دفاعی حکمتِ عملی تشکیل دینی چاہیے۔

انہوں نے تجویز دی کہ قطر، ایران، ملائیشیا، مصر، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش کو بھی اس دفاعی تعاون میں شامل کیا جائے تاکہ مسلم ممالک دفاع، معیشت، سائنس و ٹیکنالوجی اور تحقیق کے شعبوں میں مشترکہ کامیابیاں حاصل کرسکیں۔

ڈاکٹر ابوالخیر زبیر اور لیاقت بلوچ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ مسلم ممالک کے دفاع، سفارت کاری، صنعت اور تجارت کے لیے اہم ثابت ہوسکتا ہے۔

انہوں نے بالخصوص ایران کی شمولیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے فرقہ وارانہ تقسیم کی سازشی تھیوریوں کا توڑ ممکن ہوگا اور خلیج میں مسلم ممالک کے باہمی تعاون کو تقویت ملے گی۔

بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ کسی بھی وسیع تر مسلم دفاعی تعاون میں فلسطین اور جموں و کشمیر کے تنازعات کے حل اور عوام کے حقِ آزادی کو اولین ترجیحات میں شامل کیا جائے۔