اسلام آباد: کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور جموں کشمیر سالویشن موومنٹ کے چیئرمین الطاف احمد بٹ نے 13 جولائی 1931ء کے عظیم شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی لازوال قربانیاں تحریکِ آزادیٔ کشمیر کا سنگِ بنیاد ہیں جنہوں نے کشمیری عوام میں حق، انصاف، عزت، آزادی اور حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے ایک نئی روح، عزم اور حوصلہ پیدا کیا۔

انہوں نے کہا کہ 13 جولائی محض ایک تاریخی دن نہیں بلکہ کشمیری قوم کی اجتماعی مزاحمت، قومی تشخص اور آزادی کی جدوجہد کی روشن علامت ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بھارتی قابض انتظامیہ نے 5 اگست 2019ء کے بعد یومِ شہداء کی سرکاری حیثیت ختم کر دی، مزارِ شہداء تک عوامی رسائی محدود کر دی، ہر سال فاتحہ خوانی اور پُرامن یادگاری تقریبات پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں اور سیاسی رہنماؤں و کارکنوں کو نظر بند یا گرفتار کر کے کشمیری عوام کو اپنے شہداء کی یاد منانے سے روکا جاتا ہے، تاہم تاریخ کو سرکاری احکامات یا پابندیوں کے ذریعے نہ تو بدلا جا سکتا ہے اور نہ ہی شہداء کی قربانیوں کو قوم کے دلوں سے مٹایا جا سکتا ہے۔ الطاف احمد بٹ نے کہا کہ 13 جولائی 1931ء کو ڈوگرہ آمریت کے خلاف اٹھنے والی آواز نے کشمیر کی سیاسی تاریخ کا رخ بدل دیا تھا، جب ایک نوجوان اذان دیتے ہوئے شہید ہوا تو دوسرا آگے بڑھا، پھر تیسرا، یہاں تک کہ 22 جانوں کی قربانی کے بعد اذان مکمل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ عظیم قربانی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ ظلم طاقت کے زور پر جانیں تو لے سکتا ہے لیکن آزادی کی خواہش، ایمان اور حق کی آواز کو کبھی خاموش نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ 13 جولائی کے شہداء کی قربانیاں 1947ء کے جموں قتلِ عام، 1989ء سے جاری تحریکِ آزادی کے ایک لاکھ سے زائد شہداء، ہزاروں جبری گمشدہ افراد، سیاسی قیدیوں اور ان گنت متاثرہ خاندانوں کی جدوجہد سے جڑی ہوئی ہیں اور یہ تمام قربانیاں کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے لیے ایک مسلسل تاریخی تسلسل کی نمائندگی کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کے بعد بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی سیاسی، سماجی، مذہبی اور تعلیمی شناخت کو کمزور کرنے کی منظم پالیسی اختیار کر رکھی ہے، جبکہ حریت قیادت، سیاسی کارکنوں اور ہزاروں نوجوانوں کو غیر قانونی طور پر قید رکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، مسرت عالم بٹ، ظفر اکبر بٹ، آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، ڈاکٹر عبدالحمید فیاض اور دیگر تمام کشمیری سیاسی قیدیوں سمیت اگست 2019ء کے بعد گرفتار کیے گئے ہزاروں نوجوانوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مناسب طبی سہولیات، قانونی حقوق اور اہلِ خانہ سے ملاقات کی سہولت فراہم کی جائے۔

الطاف احمد بٹ نے اقوام متحدہ، او آئی سی، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، سیاسی قیدیوں کی مسلسل نظربندی اور کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھنے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ 13 جولائی کے شہداء کی قربانیاں ہمیشہ کشمیری قوم کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی اور آزادی، انصاف اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کشمیری عوام کو ان کا پیدائشی اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حق حاصل نہیں ہو جاتا۔