چارسدہ : خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس قاتلانہ حملے میں شہید ہو گئے، ان پر آتما نزئی میں فائرنگ ہوئی تھی، اس واقعہ میں دو گنرز بھی زخمی ہوئے ہیں۔
مولانا محمد ادریس دورہ حدیث درس دینے کے لیے دارلعلوم اتمانزئی جارے تھے، کہ یہ واقعہ رونما ہوا، ان کی نعش ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کر دی گئی، جہاں اطلاع ملتے ہی ان کے ہزراروں کی تعداد میں عقیدت مند پہنچ گئے۔
شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کا شمار پاکستان کے نامور اور جید علماء کرام میں ہوتا تھا، پولیس ذرائع کے مطابق فائرنگ نامعلوم افراد کی جانب سے کی گئی تھی، واقعہ کے بعد انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔
شیح الحدیث مولانا محمد ادریس، جو عام طور پر زینت المحدثین کے نام سے جانے جاتے تھے، انہوں نے مختلف دینی مدارس میں تدریسی خدمات انجام دیں اور خصوصاً دارالعلوم نعمانیہ اتمانزئی سے وابستہ رہے، جہاں انہوں نے درسِ حدیث دیا اور طلبہ کی تربیت کی۔ مولانا سمیع الحق مرحوم کے پرزور اسرار پر وہ اکوڑہ خٹک میں دورہ حدیث کی درس دے رہے تھے پشتو زبان میں ان کے خطبات عوام میں خاصے مقبول تھے، جبکہ انہیں علاقے میں ایک بااثر مذہبی رہنما کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔
شہید مولانا محمد ادریس کی سیاسی بصیرت
مولانا ادریس جمعیت العلما اسلام سے وابستہ رہے اور 2002ء سے 2007ء صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس دوران وہ حسبہ ایکٹ کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے اور قانون سازی کے عمل میں حصہ لیتے ہوئے معاشرتی و اخلاقی نظام کے فروغ کے لیے کردار ادا کیا۔ وہ جے یو آئی چارسدہ کے سرپرستِ اعلیٰ اور ضلعی امیر بھی رہے، جبکہ مولانا فصل الرحمن کے اہم مشاورتی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔
تعلیمی اور سیاسی سرگرمیوں کے علاوہ وہ جرگہ سسٹم کے ذریعے سماجی تنازعات کے حل میں بھی سرگرم رہے، اسی سلسلے میں وہ ایک وفد کے ہمراہ افغانستان گئے، جہاں مذہبی رہنماؤں اور قبائلی عمائدین نے متعلقہ حلقوں، بشمول تحریک طالبان پاکستان سے منسلک عناصر، کے ساتھ مذاکراتی عمل میں شرکت کی۔ اس دورے کا مقصد کشیدگی میں کمی اور مفاہمت کی راہ ہموار کرنا تھا، جس میں مولانا ادریس کی شرکت ان کی بطور ثالث اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل بھی مولانا پر متعدد بار دھمکیاں ملی تھیں جس کی وجہ سے ان کے ساتھ دو پولیس اہلکار سیکورٹی پر مامور تھے ، ان سے پہلے چارسدہ میں متعدد علماء کرام کو شہید کیا گیا تھا، چارسدہ میں مولانا فضل الرحمان پر بھی خودکش حملہ ھوا تھا جس میں بچ گئے تھے