اسلام آباد : نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت اہم مرحلے تک پہنچ چکی ہے۔
سفیروں اور ڈپلومیٹک کور سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کا خواہاں ہے، 47 سال بعد امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات ہوئے، وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں سے مذاکرات ممکن ہوئے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ بطور ثالث پاکستان عالمی برادری سے رابطے میں ہے، پاکستان کی کاوشوں سے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی ہوئی، اسلام آباد چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مسئلہ جلد حل ہو جائے، 28 فروری سے اب تک مختلف وزرائے خارجہ سے 121 بار بات ہوئی، امریکا ایران جنگ کے دوران پاک بھارت جنگ سے زیادہ رابطے کیے۔
نائب وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ہماری یہی کوشش ہے کہ جتنا جلد ہو سکے جنگ ختم ہو جائے، امید ہے کہ پاکستان اپنی امن کوششوں میں کامیاب ہو جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ چینی ہم منصب کی دعوت پر بیجنگ گیا اور خطے کی صورتحال پر بات کی، امریکا ایران جنگ بندی اور امن کیلیے ہم 5 نکات سامنے لائے جس کی مختلف ممالک نے بھرپور حمایت کی، پاکستان عالمی برادری کا حصہ ہونے کی ذمہ داریاں ادا کر رہا ہے، پیچیدہ معاملہ ہونے کی وجہ سے امریکا ایران جنگ سے متعلق مزید معلومات نہیں دے سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ 47 سال بعد اسلام آباد ٹاکس ایک اہم بریک تھرو ہے، امریکا ایران کے درمیان بات چیت اہم مرحلے تک پہنچ چکی ہے، امید ہے کہ معاملہ بہت جلد ختم ہو جائے گا۔
پاک بھارت جنگ
اسحاق ڈار نے کہا کہ افواج پاکستان نے دشمن کو جارحیت پر بھرپور جواب دیا، پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں اپنا دفاع کیا، پاکستان نے بھارت کے طیارے اور ڈرونز کو تباہ کر کے گرایا، پاک فضائیہ نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں بہترین کردار ادا کیا، ایڈمرل نوید اشرف کی قیادت میں پاکستان نیوی الرٹ تھی۔
’پاکستان نے اقوام متحدہ چارٹر کے تحت اپنا حق دفاع استعمال کیا۔ پاکستان اپنی زمین کے ایک ایک انچ کی حفاظت کرنا جانتا ہے۔ سعودی عرب، ترکیے اور دیگر دوست ممالک نے پاکستان کی حمایت کی۔‘
نائب وزیر اعظم نے مزید کہا کہ مقبوضہ جموں کشمیر جنوبی ایشیا میں کشیدگی کی بڑی وجہ ہے، سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مقبوضہ جموں کشمیر کا مسئلہ حل ہونا چاہیے۔
سندھ طاس معاہدہ
ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی، سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارتی اقدامات سے خطے کے امن کو خطرہ ہے، پاکستان کے پانی کو روکنے کی کوشش کی گئی تو یہ جنگ تصور ہوگی، پاکستان نے حالیہ دنوں میں دریا کے پانی کے بہاو میں بدلاؤ محسوس کیا، معاہدے سے متعلق بھارتی اقدامات پر سخت تشویش ہے۔
’اپریل 2025 میں دریائے چناب کے بہاؤ میں بدلاؤ محسوس کیا گیا۔ گزشتہ سال دسمبر اور اپریل 2026 میں بھی دریائے چناب کے بھاؤ میں تبدیلی محسوس کی۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ دریاؤ کے بہاؤ کا شفاف ڈیٹا فراہم کیا جائے۔ امید ہے کہ بھارت معرکہ حق میں ہمارے جواب سے سبق سیکھ گیا ہوگا۔‘