اسلام آباد (خصوصی رپورٹ): تعلیمی اداروں میں جعلی ڈگریوں اور دستاویزات کے ذریعے فراڈ کے بڑھتے واقعات نے متعلقہ اداروں کی کارکردگی اور نوجوانوں میں آگاہی کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے فوکل پرسن اور ڈپٹی ڈائریکٹر افضل خان نیازی کی جانب سے دی گئی بریفنگ میں جعلی تعلیمی دستاویزات سے متعلق معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔
دستیاب معلومات کے مطابق، جعلی ڈگریوں اور دستاویزات کا استعمال نہ صرف طلبہ کے مستقبل بلکہ پیشہ ورانہ شعبوں کی ساکھ کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔ بریفنگ کے حوالے سے 92 نرسز کے مبینہ طور پر جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر سعودی عرب جانے کا معاملہ بھی سامنے آیا، جس نے تعلیمی اسناد کی تصدیق اور بیرونِ ملک ملازمت کے لیے بھرتی کے طریقہ کار پر سوالات پیدا کیے ہیں۔
اس صورتِ حال میں ایف آئی اے اور متعلقہ اداروں کی جانب سے جعلی ڈگریوں کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائیوں، ذمہ دار عناصر کی نشاندہی اور مقدمات کے مؤثر پیروی کے نظام کا جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ یہ بھی اہم ہے کہ جعلی دستاویزات تیار کرنے اور استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ ایسے نیٹ ورکس کے سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
تعلیمی اداروں میں طلبہ کو جعلی ڈگریوں، غیر قانونی اسناد اور جعل سازی کے ممکنہ نتائج سے آگاہ کرنے کے لیے مؤثر مہم چلانے کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں آگاہی پروگرام منعقد کیے جا سکتے ہیں، جبکہ مستند اسناد کی شناخت اور تصدیق کے طریقہ کار سے متعلق معلومات عام کرنا بھی ضروری ہے۔
متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ صرف رسمی نوٹسز اور آن لائن اشتہارات تک محدود رہنے کے بجائے تعلیمی اداروں میں براہِ راست آگاہی مہم چلائیں اور جعلی دستاویزات کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات کریں۔
تاہم، جعلی ڈگریوں سے متعلق سامنے آنے والے دعوؤں، 92 نرسز کے معاملے اور ایف آئی اے کی کارروائیوں کی مکمل تفصیلات کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے تاکہ معاملے کی درست صورتِ حال واضح ہو سکے۔