علامہ محمد اقبالؒ کی زندگی سے منسوب کئی واقعات آج بھی لوگوں کی دلچسپی کا باعث ہیں۔ انہی میں ایک واقعہ بابا عمر خان کے خاندان سے متعلق بیان کیا جاتا ہے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ علامہ اقبالؒ کے قریبی اور بے تکلف دوست تھے۔ دونوں خاندانوں کی رہائش سیالکوٹ میں ایک ہی محلے میں تھی، جہاں علامہ اقبالؒ کا آبائی گھر بھی واقع تھا۔
روایت کے مطابق، عمر خان کی کئی بیٹیاں تھیں، لیکن ان کے ہاں کوئی بیٹا نہیں تھا۔ عمر بڑھنے کے ساتھ انہیں اس بات کا غم رہنے لگا کہ ان کی نسل آگے کیسے بڑھے گی۔ ایک روز وہ اسی پریشانی میں علامہ اقبالؒ کے پاس بیٹھے تھے کہ شاعرِ مشرق نے ان سے وجہ دریافت کی۔ عمر خان نے اپنے دل کی بات دوست کے سامنے رکھ دی۔
بیان کیا جاتا ہے کہ علامہ اقبالؒ نے انہیں حضرت زکریاؑ سے منسوب ایک دعا اور عمل کے بارے میں بتایا اور مشورہ دیا کہ اگر اللہ تعالیٰ انہیں بیٹا عطا فرمائے تو اس کا نام یحییٰ رکھیں۔ عمر خان نے دعا کی اور کچھ عرصے بعد ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا، جس کا نام محمد یحییٰ رکھا گیا۔
خاندانی روایت کے مطابق، محمد یحییٰ بچپن میں انتہائی کمزور اور دبلا پتلا تھا۔ ان کی صحت کے حوالے سے فکر مند ہو کر عمر خان کی والدہ نے انہیں کسی اچھے حکیم یا بزرگ کے پاس لے جانے کا مشورہ دیا۔ عمر خان نے دل ہی دل میں سوچا کہ ان کے بیٹے کے لیے سب سے بہتر شخصیت علامہ اقبالؒ ہی ہیں۔ چنانچہ وہ ننھے یحییٰ کو لے کر لاہور پہنچے اور جاوید منزل میں علامہ اقبالؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
روایت کے مطابق، علامہ اقبالؒ نے بچے کو اپنی گود میں بٹھایا، اس کے ہاتھوں اور چہرے کو پیار سے چھوتے رہے۔ اسی دوران بچے نے ان کی گود گیلی کر دی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ دیکھ کر علامہ اقبالؒ نے بے تکلفی سے ازراہِ مزاح کہا: ’’اوئے بے ایمانا! اے کیہہ کردتا ای؟‘‘
بابا یحییٰ کو یہ واقعہ ان کے والد عمر خان نے سنایا تھا۔ اس روایت کو علامہ اقبالؒ کی نجی زندگی اور ان کے دوستوں کے ساتھ بے تکلف تعلقات کی ایک دلچسپ جھلک کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ تاہم، اس واقعے کی تاریخی صحت کی تصدیق کے لیے مستند سوانحی حوالوں یا دستاویزی شواہد کی ضرورت ہے۔