تحریر: حاجی نواز رضا

پچھلے پانچ ماہ کے دوران جماعت اسلامی کے تین ہیرے ہم سے جدا ہوگئے۔ ان تینوں کے ساتھ میری یادیں وابستہ ہیں۔ یہ وہ شخصیات تھیں جنہیں قریب سے دیکھ کر جماعت اسلامی کی پہچان ہوئی۔ میاں مقصود احمد کے بعد امیر العظیم اس دنیا سے رخصت ہوئے اور اب حافظ محمد ادریس بھی اس راہ پر چل دیے ہیں جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔

آج فیس بک پر ان کی تصویر کے ساتھ ’’اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ‘‘ لکھا دیکھا تو دل ڈوب گیا۔ حافظ محمد ادریس بے پناہ خوبیوں کے مالک تھے۔ وہ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی نائب امیر کے منصب پر فائز رہے اور اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی تحریک اسلامی کے لیے وقف کر دی۔

حافظ محمد ادریس کا تعلق ضلع گجرات سے تھا، جہاں انہوں نے جنم لیا، اور پھر منصورہ لاہور منتقل ہوئے تو ایسے ہوئے کہ وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ میرے دوست اور نظریاتی بھائی انہیں ’’محبتوں کا سفیر‘‘ کہتے تھے۔ ان کی شاہکار تحریروں میں ’’روشنی کے مینار‘‘ نمایاں ہے، جبکہ انہوں نے افسانہ نگاری بھی کی۔ وہ پنجاب یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے سابق منتخب صدر بھی رہے۔ گجرات کو بجا طور پر فخر ہونا چاہیے کہ حافظ محمد ادریس جیسی شخصیت کا تعلق اس سرزمین سے تھا۔

حافظ محمد ادریس کا شمار جماعت اسلامی کے ان رہنماؤں میں ہوتا تھا جنہوں نے اپنی پوری زندگی دعوتِ دین، اقامتِ دین اور امتِ مسلمہ کی فکری و اخلاقی تربیت کے لیے وقف کردی۔ انہوں نے کم عمری میں قرآن مجید حفظ کرکے حافظِ قرآن ہونے کا اعزاز حاصل کیا اور پھر پوری زندگی قرآن و حدیث کی تعلیمات کے فروغ میں گزاری۔

انہوں نے اپنے تحریکی سفر کا آغاز اسلامی جمعیت طلبہ سے کیا اور بعد ازاں جماعت اسلامی میں مختلف اہم ذمہ داریاں ادا کیں۔ ان میں امیر جماعت اسلامی پنجاب، مرکزی قیم (سیکرٹری جنرل) اور نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان جیسے اہم عہدے شامل ہیں۔

حافظ محمد ادریس نے قرآن و حدیث، سیرتِ طیبہ اور صحابہ کرامؓ کی زندگیوں کے حوالے سے متعدد کتب تحریر کیں۔ ان کے فکری اور دینی مضامین باقاعدگی سے شائع ہوتے رہے۔ ان کی معروف کتابوں میں ’’روشنی کے مینار‘‘ اور ’’رحمان کے سائے میں‘‘ سمیت دیگر تصانیف شامل ہیں۔

اسلامی جمعیت طلبہ کے دور میں وہ جنرل یحییٰ خان کے مارشل لا کے زمانے میں تنظیم کے صدر منتخب ہوئے۔ لاہور کے ناظم کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں ادا کیں اور بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر منتخب ہوئے۔ اسی دور میں انہیں مارشل لا ریگولیشن کے تحت گرفتار کیا گیا اور تقریباً ایک سال اسیری میں گزارا۔ جیل کے دوران انہوں نے باقاعدہ لکھنے کا آغاز کیا اور یہی تحریری سفر آگے چل کر ان کی متعدد تصانیف کی بنیاد بنا۔

حافظ محمد ادریس کو یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی شہرۂ آفاق تفسیر ’’تفہیم القرآن‘‘ کی جلد پنجم کا اشاریہ انہوں نے مولانا مودودیؒ کی ہدایت پر تیار کیا، جسے مولانا نے پسند فرمایا۔

1973ء میں مولانا مودودیؒ کی ہدایت پر وہ کینیا چلے گئے، جہاں 1975ء تک نیروبی میں اسلامک فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ وہاں شائع ہونے والے انگریزی جریدے ’’الاسلام‘‘ کے ادارتی بورڈ کا بھی حصہ رہے۔

1971ء میں وہ باضابطہ طور پر جماعت اسلامی میں شامل ہوئے۔ 1985ء میں منصورہ منتقل ہونے کے بعد جماعت اسلامی کی مرکزی ذمہ داریوں میں فعال کردار ادا کیا۔ وہ امیر جماعت اسلامی پنجاب، مرکزی قیم اور طویل عرصے تک نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔

وہ محض ایک منتظم نہیں بلکہ ممتاز عالم دین، شعلہ بیان مقرر، مصنف اور فکری رہنما بھی تھے۔ صحابہ کرامؓ کی سیرت پر انہیں خاص دسترس حاصل تھی۔ منصورہ کی تربیت گاہ میں کارکنان ان سے سیرتِ صحابہؓ کے واقعات اور اسباق سنتے تھے۔

قرآن، حدیث اور سیرت پر ان کی متعدد کتب شائع ہوئیں۔ ان کی معروف تصانیف میں ’’روشن قندیلیں‘‘ بھی شامل ہے۔ روزنامہ دنیا میں ان کا کالم ’’صدائے درویش‘‘ باقاعدگی سے شائع ہوتا رہا۔ ان کا آخری کالم بھی وفات سے چند روز قبل، 15 ستمبر 2026ء کو شائع ہوا۔

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن، لیاقت بلوچ اور فرید احمد پراچہ سمیت جماعت اسلامی کے دیگر رہنماؤں نے حافظ محمد ادریس کی وفات کو جماعت اسلامی اور تحریک اسلامی کے لیے عظیم فکری و تحریکی نقصان قرار دیا ہے۔

ان کی زندگی سادگی، درویشی، علم، دعوت اور اقامتِ دین کی مسلسل جدوجہد سے عبارت تھی۔ حافظ محمد ادریس ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے تحریک اسلامی میں اپنی جوانی گزاری، اپنی داڑھی سفید کی اور زندگی کا بیشتر حصہ اسی مقصد کے لیے وقف کردیا۔

اسلامی جمعیت طلبہ سے جماعت اسلامی تک، جیل کی اسیری سے بیرونِ ملک دعوتی خدمات تک، تفسیر القرآن کے اشاریے کی تیاری سے منصورہ کی تربیت گاہوں میں نوجوانوں کی فکری تربیت تک، حافظ محمد ادریس نے اپنی پوری زندگی ایک مقصد کے لیے وقف کیے رکھی۔

آج منصورہ میں ایک اور قبر بنے گی، لیکن ان کے لکھے ہوئے الفاظ، ان کی علمی و فکری خدمات، ان کے تربیت یافتہ ہزاروں نوجوان اور ’’صدائے درویش‘‘ کی صورت میں ان کی آواز باقی رہے گی۔

اللہ تعالیٰ حافظ محمد ادریس کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی دینی، علمی اور تحریکی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے اور تحریک اسلامی کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔ آمین۔