اسلام آباد سابق نگران صوبائی وزیر صحت اور سماجی شخصیت ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی نظریاتی مملکت ہے‘ حکمرانوں کی ناہلی کی وجہ سے اس نظریاتی مملکت میں دارلحکومت کے ایک ہسپتال میں چودہ معصوم بچے جان کی بازی ہار گئے ہیں اور حکومت حقائق قوم کو نہیں بتا رہی‘ اب زمانہ حقائق چھپانے کا نہیں رہا‘ عوام کا اور سوگوار خاندانوں کا ہق ہے کہ انہیں ہسپتال کے سانحہ کے بارے میں سچ بتایا جائے ملک کے دفاع کے لیے سب سے بنیادی نکتہ یہ ہے کہ حکمران اپنی قوم سے سچ نہ چھپائیں اور بتائیں کہ ناا ہلی کا ذمہ دار کون ہے اور معصوم بچوں کا خون کس کی گردن پر ہے انہوں نے یہ بات یہاں چھ ستمبر یوم دفاع کے سلسلے میں ہونے والی ایک تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہی‘ تقریب قاضی فارم ہاؤس میں ہوئی اور مقررین نے یوم دفاع پاکستان کے تقاضوں کو اگر کرنے پر روشنی ڈالی اور زور دیا اور کہاکہ نوجوان نسل کو بھی وطن عزیز کے دفاع کے لیے تیار کرنے کی ضرورت ہے‘ تقریب میں وزیر اعظم کے یوتھ پروگرام کے فوکل پرسن عبدالعیظ خان‘ ممتاز اسکالر ڈاکٹر شھزاد اقبال شام‘مسلم لیگ جونیجو کے صدر اقبال ڈار‘ نیشنل لیبر فیڈریشن کے صدر شمس الرحمن سواتی‘ الخلیل قرآن اکیڈمی کے ممتہم حافظ نسیم محمود خلیل‘ مسلم لیگ جونیجو کے اسلام آباد کے سیکرٹری فاروق اقبال خان‘ ماہر تعلیم پروفیسر فردوس‘ ماہر تعلیم طارق شاہین‘ کراچی گرینڈ لائنس کے چیئرمین محمد اسلم خان اور دیگر نے بھی خطاب کیا ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا کہ ملکی دفاع کا یہ بھی تقاضہ ہے کہ ملک کے ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں میرٹ پر تقرریاں اور تعیناتیاں کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تعلیمی اداروں نے محب وطن نسل تیار ہو کر نکلے انہوں نے کہا کہ پمز ہسپتال کا سانحہ برسوں ان حکمرانوں کا پیچھا کرتا رہے گا کہ بتایا جائے کہ معصوم جانیں جو حکمرانوں کی نا اہلی کی وجہ سے جان سے گئی ہیں ان کا قصور کیا تھا‘ انہوں نے کہا کہ ان کے آباؤ اجداد اپنا سب کچھ لٹا کر پاکستان آئے تھے‘ اور ہم نے یہاں قائد اعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا‘ ہمارے خاندان کے دامن پر کوئی داغ نہیں ہے ہماری ساری سماجی خدمت اور سیاسی جدوجہد اس مقصد کے لیے ملک میں کرپشن سے پاک سوسائٹی قائم ہو جائے اور صرف صاف ستھرے اجلے کردار کے ایمان دار لوگ ہی اقتدار میں آئیں‘آج پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں اور بھارت کے سر پر اس وقت بھی جنگ کا بھوت سوار ہے اسے اپنی دس مئی والی ہزیمت سے تو بخوبی اندازہ ہو جانا چاہیے کہ آج عرصہ دراز تک چلنے والی روایتی جنگ کا زمانہ لد چکا ہے۔ اب تو بس چٹکی بجانے کی دیر ہوگی اور اس دھرتی پر موجود ہر ذی روح سمیت سب کچھ جل کر راکھ کا ڈھیر بن جائیگا۔ کیا مودی سرکار کو اس حقیقت کا علم نہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی وار ہیڈز بھارت سے کہیں زیادہ ہیں اور پھر ہمارے ٹیکٹیکل ہتھیار تو محدود رینج میں سب کچھ جلا کر بھسم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس کا نظارہ بھارت کے بچے بچے نے دس مئی کو کر بھی لیا ہے۔ ہم نے 65ء کی روایتی جنگ میں اس شاطر دشمن کے قدم نہیں جمنے دئیے تھی‘اور ہماری جری و غیور سپاہ نے بہادری کے ساتھ رواں سال دس مئی کو بھی دشمن کو ڈھیر کرکے دنیا کو حیران کیا ہے تو پھر جنونی مودی سرکار کس کھیت کی مولی ہے۔ وہ ہمارے ساتھ مزید چھیڑ چھاڑ کرے گی تو اسے پتہ بھی نہیں چلے گا کہ اس کے ساتھ کیا بیت گئی ہے تو حضور خبردار رہیئے۔ ہمارا غلیل سے جہاز مار گرانے والا جذبہ بھی قائم و برقرار ہے اور آج ہم ہر قسم کی جنگی صلاحیتوں سے بھی مالا مال ہیں۔ ہم سے مت ٹکرانا صاحب۔ ورنہ بھسم ہو جاؤ گے اور تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں۔ وزیر اعظم کے یوتھ پروگرام کے فوکل پرسن عبد المعیز خان نے کہا کہ پاکستان ایک روشن مستقبل والا ملک ہے اور حکومت نوجوانوں کو بہت اہمیت دے رہی ہے‘ حکومت کے پروگرام میں نوجوانوں کے لیے بڑا حصہ ہے اور مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے‘ کراچی گرینڈ الائنس کے چیئرمین محمد اسلم خان نے کہا کہ پاکستان میں کرپشن ختم کرنے کی ضرورت ہے اور یہی پاکستان کی سب سے بڑی خدمت ہوگی‘ اورا سی سے ملک مضبوط اور محفوظ ہوگا‘ سینیئر جرنلسٹ شکیل یامین کانگا نے کہا کہ پاکستان کے دفاع کے لیے معرکہ حق بنیان المرصوص دفاع وطن کے لیے ہمارے لیے رہتی دنیا تک بہترین مثال رہے گا‘ حافظ نسم محمود خلیل نے کہا کہ پاکستان کے عوام ملک کے دفاع کے لیے متحد اور یک جان ہیں‘ وطنِ عزیز کا یومِ دفاع جسے جوش و جذبے سے منانے کا تقاضہ بھارت کی مودی سرکار کے جنگی جنون اور رواں سال دس مئی کو ستمبر 65ء ہی کی طرح افواج پاکستان کے ہاتھوں عبرت ناک شکست اور جنگ بندی کیلئے مجبور ہونے کے تناظر میں اور بھی بڑھ گیا ہے اس لئے آج قوم فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں اپنی بہادر افواج کی دفاعِ وطن میں بے پناہ کامرانیوں پر ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار بھی کر رہی ہے اور دفاع وطن کیلئے اپنی جانیں نچھاور کرنے والے شہداء کیلئے عقیدت کے پھول بھی نچھاور کر رہی ہے‘ نیشنل لیبر فیڈریشن کے صدر شمس الرحمن سواتی نے کہا کہ قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ وطن کے دفاع کے لیے تیار ہے دس مئی 2025ء کا وہ یادگار دن ہمارے قومی عسکری تفاخر کا باعث بنا جو دشمن پر اپریشن بنیانِ مرصوص میں فتحِ مبین کی نوید لے کر آیا‘ پروفیسر فردوس نے کہا کہ وہ سرگودھا میں ہونے والے فضائی معرکہ کے عینی شاہد ہیں اس وقت ہم نے دشمن کے جہاز سیکن

مسلم لیگ جونیجو کے صدر اقبال دار نے کہا کہ ہمیں بہرصورت اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھنا ہے اور کہ وطن کی حرمت و تقدس پر کوئی ہلکی سی بھی آنچ نہ آنے دینے کی کوشش کرنی ہے

ز میں گرائے تھے اور ہمیں دفاع وطن کا جذبہ آج بھی زندہ رکھنے کی ضرورت ہے جو بھی وطن کے دفاع کے لیے کام کرتا ہے وہ قومی ہیرو ہے‘ اظہر حفیظ نے کہا کہ دفاع وطن معمولی کام نہیں یہ نہائت غیر معمولی کام انتہاء درجے کی منصوبہ بندی کے بغیر ممکن نہیں ہوتا‘ یہ حساس معاملہ ہے کوئی آسان کام نہیں ہے جو اس راہ میں اپنی جان دیتے ہیں وہ ہمارے ہیرو ہیں‘ طارق شاہین نے کہا کہ آج بھی ہم غازیو‘ مجاہدو‘ جاگ اٹھا ہے سارا وطن“… ”اے پتر ہٹاں تے نئیں وِکدے‘ توں لبھدی پھریں بازار کڑے“۔ اپنی جاں نذر کروں اپنی وفا پیش کروں‘ قوم کے مرد مجاہد تجھے کیا پیش کروں“ جیسے ملی نغموں سے اپنے اندر جذبہ پیدا کرتے ہیں پوری قوم بھی مکار دشمن کو چھٹی کا دودھ یاد دلانے کے لئے تیار ہے‘ ڈاکٹر شہزاد اقبال شام نے کہا کہ مایوسی نہ پھیلائی جائے وطن سے محبت کا یہی تقاضہ ہے کہ ہم نوجوان نسل کو آگے بڑھنے کا درس دیں مسلم لیگ جونیجو کے صدر اقبال ڈار نے کہا کہ ہمیں بہرصورت اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھنا ہے اور کہ وطن کی حرمت و تقدس پر کوئی ہلکی سی بھی آنچ نہ آنے دینے کی کوشش کرنی ہے