پشاور کے ایک کلب میں انگریز افسر اسکواش کھیلتے تھے ۔۔ اور کورٹ سے باہر نکلنے والی گیندیں اٹھانے کے لیے ایک چھوٹا سا لڑکا کھڑا رہتا تھا۔
افسر کھیلتے ۔۔ وہ انہیں غور سے دیکھتا۔
وہ شاٹ لگاتے ۔۔ لڑکا گیند اٹھا کر واپس کردیتا۔
پھر شام ہوتی ۔۔ افسر کلب سے چلے جاتے ۔۔ کورٹ خالی ہوجاتا ۔۔ اور وہی بال بوائے ہاتھ میں ریکٹ پکڑ کر ان کے کھیلے ہوئے شاٹس دہرانے لگتا۔
اس بچے کا نام ہاشم خان تھا۔
وہ پشاور کے قریب نواکلی کے ایک سادہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد برطانوی فوجی افسروں کے کلب میں ملازم تھے۔
ہاشم ابھی چھوٹے تھے کہ والد ایک حادثے میں دنیا سے چلے گئے۔ تعلیم چھوڑنا پڑی ۔۔ اور کلب میں گیندیں اٹھانا اور کورٹ صاف کرنا زندگی کا ذریعہ بن گیا۔
لیکن جس کورٹ پر وہ صفائی کرتے تھے ۔۔ وہی کورٹ ان کی درس گاہ بھی بن گیا۔
کوئی باقاعدہ اکیڈمی نہیں تھی ۔۔ جدید کوچنگ نہیں تھی ۔۔ مہنگا سامان نہیں تھا۔
صرف کھیل کو غور سے دیکھنے والی دو آنکھیں ۔۔ مسلسل محنت کرنے والا جسم ۔۔ اور یہ یقین کہ ایک دن وہ صرف گیند اٹھانے والا لڑکا نہیں رہے گا۔
افسر چلے جاتے تو ہاشم خان کورٹ میں اترتے ۔۔ کبھی ٹوٹے پرانے ریکٹ سے پریکٹس کرتے، کبھی دیوار کو حریف بنا لیتے۔
وقت گزرتا گیا ۔۔ بال بوائے ایک بہترین کھلاڑی بن گیا۔
1944 میں انہوں نے آل انڈیا اسکواش چیمپئن شپ جیتی اور اگلے دو سال بھی اپنے اعزاز کا دفاع کیا۔
پاکستان قائم ہوا تو وہ پاکستان ایئر فورس سے وابستہ ہوئے اور 1949 میں نئے ملک کی پہلی قومی اسکواش چیمپئن شپ جیت لی۔
مگر عالمی سطح پر انہیں ابھی کوئی خاص طور پر نہیں جانتا تھا۔
پھر 1951 میں پاکستان نے انہیں برٹش اوپن کھیلنے کے لیے انگلستان بھیجا۔
ہاشم خان تقریباً 37 برس کے تھے ۔۔ ایک ایسی عمر جس میں آج کئی کھلاڑی ریٹائرمنٹ کی تیاری کررہے ہوتے ہیں۔ دوسری جانب مصر کے محمود کریم تھے، جو کئی مرتبہ یہ اعزاز جیت چکے تھے۔
کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ پشاور کا یہ غیرمعروف کھلاڑی کیا کرنے والا ہے۔
فائنل شروع ہوا ۔۔ اور ہاشم خان نے دفاعی چیمپئن کو 9-5، 9-0 اور 9-0 سے شکست دے دی۔
جس کھیل کو انہوں نے کبھی انگریز افسروں کی گیندیں اٹھاتے ہوئے سیکھا تھا ۔۔ اسی کھیل کی سب سے بڑی ٹرافی اب ان کے ہاتھ میں تھی۔
اس دور میں برٹش اوپن کو اسکواش کی غیررسمی عالمی چیمپئن شپ سمجھا جاتا تھا۔
ہاشم خان صرف ایک مرتبہ نہیں جیتے۔
انہوں نے 1951 سے 1956 تک مسلسل چھ برٹش اوپن ٹائٹل اپنے نام کیے ۔۔ اور پھر 1958 میں ساتویں مرتبہ یہ اعزاز جیت لیا۔
پاکستان ابھی دنیا کے نقشے پر نیا ملک تھا ۔۔ وسائل محدود تھے ۔۔ مگر ہاشم خان نے دنیا کو ایک ایسا نام یاد کروادیا جس کے بعد کئی دہائیوں تک عالمی اسکواش پر پاکستانی کھلاڑیوں کی حکمرانی قائم رہی۔
ہاشم کے بعد اعظم خان، روشن خان، قمر زمان، جہانگیر خان اور جان شیر خان جیسے نام سامنے آئے۔
لیکن اس بادشاہت کی پہلی اینٹ اس بال بوائے نے رکھی تھی ۔۔ جو دوسروں کا کھیل دیکھتے دیکھتے خود دنیا کا بہترین کھلاڑی بن گیا۔۔