تحریر: محمد صباح الدین
ہم نے اپنی زندگی میں بہت کم ہی کسی کی تعریف کی ہے ، بلکہ تعریف کے قابل اِکا دّکا شخصیات پر ہی نظریں مرکوز ہوئی جن پر بھی لکھنے کا موقع ہی نہیں ملا ۔
موسیقی سنی تو برصغیر پاک و ہند کی موسیقی کی معراج پر براجمان خان صاحب مہدی حسن کے علاؤہ کسی کو سنا ہی نہیں ، فن اداکاری کو لے لیجئے تو لیجنڈ اداکار دلیپ کمار کے علاؤہ کسی کو نہیں مانا ، اپنی اسی پسند و ناپسند کی عادت کو مختصر کرتے ہوئے ملکی صحافت کی طرف آتے ہیں تو اس وقت حامد میر صاحب کو سب سے نمایاں اور صحافت کی معراج پر کھڑا دیکھتے ہیں ۔
ہم آج حامد میر صاحب کے لئے جو لکھنے لگے ہیں اس کا کریڈٹ وفاق کے جید ، بزرگ صحافی جناب حاجی نواز رضا صاحب کو جاتا ہے جنہوں نے کچھ اس ادا سے حامد میر صاحب کی تعریف کی کہ ہمارے دل میں ان کے لئے گزشتہ پندرہ سولہ برسوں سے گردش کرتی ستائش یوں تازہ ہو گئی جیسے کھلکھلاتا پھول ٹہنی پر اّگ آیا ہو ۔
ہم اتنے ہی عرصے سے اسلام آباد
میں مقیم ہیں ، امریکہ سے آنے کے بعد پشاور کی بجائے اسلام آباد قیام کوترجیح دی ۔
اس عرصے میں حامد میر صاحب کے ارد گرد بھی کبھی کبھار نظریں دوڑاتے تو نظریں نامور صحافی کالم نگار جناب سہیل وڑائچ صاحب پر ٹِک جاتیں اور اگر ان کے علاؤہ کسی اور کو ڈھونڈتیں تو جناب حسن نثار صاحب پر رک جاتیں ، ان کے علاؤہ کوئی اور جچا ہی نہیں ۔
لیکن حسن نثار صاحب بے شک پایہ کے صحافی تصور ہوتے ہیں اور وسیع تجربے کے علاؤہ زاتی طور پر ایک خاص نکتہ نظر اور اپنا منفرد انداز رکھتے تو ہیں لیکن ان کے لب و لہجہ کی کرختگی اور بے زاری بیزاری سی قابل قبول نہیں لگتی ،جہاں تک سہیل وڑائچ صاحب کی زات یا صحافت کی بات ہے تو سہیل وڑائچ صاحب گو کہ بڑے میچور شائستہ زباں شخصیت کے مالک ہیں لیکن جنگ گروپ کے کلیدی عہدے پر فائز ہونے کے باوجود جنگ گروپ ہی کے حامد میر صاحب کے پیچھے کھڑے دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ حامد میر صاحب میں جو صحافتی تیز تراری، شوخی اور نیوز سینس ہے وہ ہمیں معزرت کے ساتھ تمام صحافی ساتھیوں سے کہ ، کسی اور صحافی میں نظر نہیں آیا ۔
حامد میر صاحب واحدملکی صحافی ہیں جو خوبرو تو ہیں ہی مگر ساتھ میں شرارتی بھی ہیں ، ان کے لب و لہجہ میں دھیما پن اور تجسس بھی محسوس ہوتا ہے جو انہیں مخاطب سے خبریں ہی نہیں راز بھی اگلوانے میں مدد گار ثابت ہو رہا ہے ۔
کوئی سیاستدان ، بیوروکریٹ یا ٹیکنو کریٹ ایسا باقی نہیں بچا ہو گا جو ان کے صحافتی نشتروں یا حملوں سے محفوظ رہا ہو۔
بے نظیر شہید ، میاں نواز شریف آصف علی زرداری شہباز شریف سمیت کوئی چوٹی کا سیاستدان حامد میر کے برجستہ طوفانی سوال کی زد میں آئے بغیر سیاست نہیں کر پایا ، انہیں حامد میر کا سامنا کرنا یہی کرنا پڑا ۔
حامد میر صاحب آج جس مقام پر کھڑے ہیں وہ وسیے ہی نہیں آن کھڑے ہوئے بلکہ اس کے پیچھے ان کی صحافتی قابلیت جو انہیں ان کے والد بزرگوار کہنہ مشق صحافی جناب وارث میر مرحوم سے وراثت میں ملی اور پھر ان کی شبانہ روز محنت اور وارثتی تجربہ سے حاصل ہوا ہے جو ہر کسی کے حصے میں نہیں اتا ۔
حامد میر نے ملکی سطح پر ہی نہیں بیرون ملک بھی صحافتی خدمات انجام دیں اور نام کمایا ہے ، بیروت لبنان کا جنگی محاز ہو یا تورہ بورہ کے انتہائی خطرناک پہاڑی سلسلے ہوں یا
عالمی امن کی کوششیں ، حامد میر صاحب ہر جگہ کھڑے نظر آئیں گے ،
ملک میں قدرتی آفات سیلاب زلزلے ہوں یا دہشتگردانہ واقعات، بم دھماکے ہوں یا خودکش دھماکے ہر واقعہ کی کوریج میں وہ فرنٹ لائن پر رپورٹنگ کرتے نظر آئیں گے ، تو ایسے میں تو وہ قابل تعریف اور قابل تحسین قرار پائیں گے ہی پائیں گے نا ،تو کیوں نہ ہم انہیں ان کی بے مثال صحافتی خدمات ہی نہیں بلکہ زاتی خوبیوں کی بنا پر خراج تحسین پیش کریں جس کے وہ مستحق ہی نہیں حق دار بھی ہیں ۔
حامد میر صاحب کے لئے اگر یہ کہا جائے کہہ اب وہ صحافت کے اس مقام پر آن کھڑے ہوئے ہیں جہاں انہیں کسی قسم کا کوئی ڈر خوف محسوس نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی کی پروا کی جستجو دکھائی دے رہی ہے ان کے لب و لہجے میں ، بڑی سے بڑی شخصیات کے حوالے سے بڑی سے بڑی بات ان ائیر کہتے ہوئے زرا سی بھی جھجھک محسوس نہیں کرتے اور یہی وہ اعتماد ہے جو انہیں دوسرے ہمعصر صحافی ساتھیوں میں ممتاز کئے ہوئے ہیں ۔ تاہم یہ الگ افسوسناک حقیقت ہے کہ وہ اپنی اس بے ساختگی کی قیمت گولیوں کی شکل میں ادا کر چکے ہیں جو ان پر قاتلانہ حملہ کی صورت میں انہیں لگیں ، حالانکہ اس کے باوجود کہ
ملکی سلامتی دفاعی نکتہ نظر سے بھی ان کی خدمات پوشیدہ نہیں، لال مسجد کا واقع ہو یا تورہ بورہ میں مقیم القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن سے بات چیت کے زریعے ملکی دفاعی استحکام میں مدد گار بننا ہو ، حامد میر ہی وہ واحد صحافی ہیں جو ان محازوں پر بھی ڈٹے اپنے صحافتی فرائض کی انجام دہی میں مصروف دکھائی دیں گے ۔
حامد میر کی شخصیت ایسی نہیں کہ ان چند جملوں میں سما جائے ، ان کی گراں قدر خدمات، کارناموں اور مسلسل جدوجہد کے کئی پہلو ہیں جن کا سر دست اس مختصر سے ڈیجیٹل کالم میں احاطہ کرنا ممکن ہی نہیں ، اس لئے ، اس وقت کے لئے اتنا ہی سہی ۔0
حامد میر صاحب اپکو ہمارا ہی نہیں پوری ملکی صحافی برادری کا بھی سلام ۔
جیو حامد میر
جیو حامد میر ،اس لئے لکھا کہ تعلق جو میر صاحب کا جیو جنگ گروپ سے ہے
اگر چینل جئے گا تو اس کے ساتھ حامد میر بھی جئے گا انشالللہ