اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے قبل صوبائی حکومت کو اعتماد میں لینے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ساتھ ملانے کے لیے ایک ماہ سے زائد عرصے تک مخلصانہ کوششیں کی گئیں، تاہم مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث حکومت کو آئینی قدم اٹھانا پڑا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ مسلسل دو روز مذاکرات ہوئے اور رات پونے 12 بجے تک رابطے جاری رہے۔ ان کے مطابق اسد قیصر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پیچھے نہ ہٹنے کی یقین دہانی کرائی تھی، جبکہ مذاکراتی مسودے میں پی ٹی آئی کی خواہش پر پانچ سے چھ تبدیلیاں بھی کی گئیں، لیکن بعد میں ایک مختلف مسودہ سامنے آگیا۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی سے بھی متعدد ملاقاتیں ہوئیں اور آخری رابطے میں انہیں صورتحال بہتر بنانے کے لیے مزید وقت دینے کی پیشکش کی گئی، تاہم دوسری جانب سے مثبت جواب موصول نہیں ہوا۔ محسن نقوی نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی، لیکن بالآخر آئینی اقدام اٹھانے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔