اسلام آباد: سینیٹر محمد طلحہ محمود سے متعلق ذاتی مفاد حاصل کرنے کے الزامات کے جواب میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ 20 سال کے دوران حکومتِ پاکستان سے اپنی سرکاری تنخواہ، ٹی اے، ڈی اے اور دیگر مراعات وصول نہیں کیں۔

جاری بیان میں کہا گیا کہ سینیٹر محمد طلحہ محمود گزشتہ 20 سال سے ایوانِ بالا کے رکن ہیں، تاہم اس عرصے کے دوران انہوں نے اپنی جائز سرکاری تنخواہ اور دیگر مالی مراعات حاصل نہیں کیں۔

بیان کے مطابق اس کے باوجود بعض حلقوں کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ چترال سے کسی ذاتی مفاد یا فائدے کے حصول کے لیے آئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ جنہوں نے طویل عرصے تک سرکاری خزانے سے اپنی جائز مراعات بھی وصول نہیں کیں، ان پر چترال سے ذاتی مفاد حاصل کرنے کا الزام سیاسی نوعیت کا ہے۔

بیان کے مطابق کسی بھی شخصیت کے بارے میں رائے قائم کرتے وقت الزامات کے بجائے اس کے کردار اور خدمات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔