تحریر: حاجی نواز رضا
پاکستانی سیاست میں بعض شخصیات اپنے سیاسی عہدے سے زیادہ اپنے عوامی روابط، پارلیمانی سرگرمیوں، سماجی خدمت اور مختلف طبقات کے ساتھ تعلق کی وجہ سے نمایاں ہوتی ہیں۔ سینیٹر محمد طلحہ محمود بھی ایک ایسے ہی سیاست دان ہیں جن کا سیاسی سفر مذہبی سیاست سے شروع ہوا، پارلیمنٹ میں طویل عرصے تک جاری رہا اور اب پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے ایک نئے سیاسی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
ان کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ مذہبی پس منظر رکھنے کے باوجود پارلیمانی سیاست، مذاکرات، آئینی طریقۂ کار اور سیاسی مفاہمت کو اہمیت دیتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کے حامی انہیں اعتدال پسند مذہبی سیاست، پارلیمانی جدوجہد اور کشمیر کاز کے حوالے سے ایک اہم آواز قرار دیتے ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام سے پیپلز پارٹی تک
محمد طلحہ محمود نے عملی سیاست کا آغاز جمعیت علمائے اسلام (ف) کے پلیٹ فارم سے کیا۔ طویل عرصے تک وہ مولانا فضل الرحمن کی جماعت کے اہم رہنماؤں اور پارلیمانی چہروں میں شمار ہوتے رہے۔ بعد ازاں ملکی سیاسی حالات، بدلتے ہوئے سیاسی تقاضوں اور اپنی سیاسی ترجیحات کے نتیجے میں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔
یہ تبدیلی ان کے سیاسی سفر کا ایک اہم موڑ تھی۔ مذہبی سیاسی جماعت سے پیپلز پارٹی جیسے ملک گیر سیاسی پلیٹ فارم تک ان کا سفر اس بات کی مثال بھی ہے کہ پاکستانی سیاست میں سیاسی وابستگیاں وقت کے ساتھ کس طرح تبدیل ہوتی رہی ہیں۔
مسلسل چار مرتبہ سینیٹ تک رسائی
طلحہ محمود کی سیاسی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو ان کا طویل پارلیمانی تجربہ ہے۔ وہ متعدد مرتبہ سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے اور تقریباً دو دہائیوں سے قومی سیاست کا حصہ ہیں۔
سینیٹ کے ریکارڈ کے مطابق وہ 2006، 2012، 2018 اور موجودہ دور کے لیے سینیٹ کا حصہ بنے۔
مسلسل چار مرتبہ ایوانِ بالا تک پہنچنا ان کے سیاسی اثر و رسوخ اور پارلیمانی تجربے کی عکاسی کرتا ہے۔ مختلف حکومتوں اور سیاسی حالات میں پارلیمنٹ کا حصہ رہنے کی وجہ سے انہیں ایوان کے اندر قانون سازی، قائمہ کمیٹیوں اور پارلیمانی نگرانی کے معاملات کا وسیع تجربہ حاصل ہوا ہے۔
پارلیمانی سیاست کا انداز
طلحہ محمود کی سیاست کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ محض جلسوں اور سیاسی نعروں کے بجائے پارلیمنٹ اور قائمہ کمیٹیوں کے ذریعے مسائل اٹھانے کو اہمیت دیتے رہے ہیں۔
انہوں نے مختلف ادوار میں داخلہ، دفاع، خزانہ، پٹرولیم اور دیگر اہم پارلیمانی کمیٹیوں میں کردار ادا کیا۔ ان کی سیاسی سوچ میں مذاکرات، دلیل اور آئینی راستے کو نمایاں حیثیت حاصل رہی ہے۔
اسی وجہ سے ان کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ سڑک کی سیاست کے بجائے ایوان کی سیاست کو زیادہ مؤثر سمجھتے ہیں۔
دفاعی کمیٹی کی سربراہی
ان کے موجودہ سیاسی کردار میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کی سربراہی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ 2025 میں وہ اس اہم کمیٹی کے چیئرمین منتخب ہوئے۔
یہ ذمہ داری ان کے سیاسی سفر میں اس لیے بھی اہم ہے کہ دفاعی کمیٹی قومی سلامتی، دفاعی پالیسی اور ملک کی اسٹریٹیجک ضروریات سے متعلق معاملات میں پارلیمانی نگرانی کا اہم فورم ہے۔
چترال کی جغرافیائی اور سرحدی اہمیت کے باعث طلحہ محمود اس علاقے کے مسائل کو قومی سلامتی، سرحدی رابطوں اور انفراسٹرکچر کے تناظر میں بھی پیش کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
کشمیر کاز اور بین الاقوامی مؤقف
طلحہ محمود کی سیاسی شناخت میں مسئلہ کشمیر ایک مستقل موضوع رہا ہے۔ وہ کشمیر کو محض پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کے بجائے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کا مسئلہ قرار دیتے رہے ہیں۔
ان کا مؤقف رہا ہے کہ 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کے بعد عالمی برادری کو کشمیر کی صورتحال پر مؤثر توجہ دینی چاہیے اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مقدمہ مضبوط انداز میں پیش کیا جانا چاہیے۔
وہ کشمیر کے معاملے پر قومی اتفاقِ رائے، پارلیمانی سفارت کاری اور عالمی فورمز پر مؤثر آواز کو اہم سمجھتے ہیں۔ OIC، IPU اور دیگر بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر پاکستانی مؤقف اجاگر کرنے کی کوششیں بھی ان کی سیاسی سرگرمیوں کا حصہ رہی ہیں۔
ان کے بیانیے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
مذہب، ریاست اور آئین
طلحہ محمود کی سیاسی شناخت کا ایک دوسرا پہلو مذہب اور ریاست کے حوالے سے ان کا مؤقف ہے۔ ان کا تعلق مذہبی سیاسی پس منظر سے ہے، تاہم ان کی پارلیمانی سیاست میں آئینی اور جمہوری طریقۂ کار پر زور نمایاں رہا ہے۔
ان کے حامی انہیں ایسی مذہبی سیاست کا نمائندہ قرار دیتے ہیں جو تشدد یا تصادم کے بجائے آئینی جدوجہد، پارلیمنٹ اور سیاسی مذاکرات کو ترجیح دیتی ہے۔
PDM کے دور میں بھی انہوں نے اپنی سابقہ جماعت اور اتحادی سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر حکومت مخالف سیاسی سرگرمیوں میں کردار ادا کیا۔
چترال: سیاسی سفر کا نیا مرکز
طلحہ محمود کی موجودہ سیاست کا سب سے دلچسپ پہلو چترال ہے۔
انہوں نے چترال کو اپنی قومی اسمبلی کی سیاسی سرگرمیوں کے لیے منتخب کیا، جہاں ماضی میں پیپلز پارٹی کی قیادت اور دیگر بڑی سیاسی شخصیات بھی سیاسی اثر و رسوخ رکھتی رہی ہیں۔
2024 کے عام انتخابات میں انہوں نے چترال سے قومی اسمبلی کی نشست پر انتخاب لڑا۔ وہ کامیاب نہ ہوسکے، تاہم بڑی تعداد میں ووٹ حاصل کرکے ایک مضبوط سیاسی امیدوار کے طور پر سامنے آئے۔
اب چترال ان کے لیے محض ایک انتخابی حلقہ نہیں بلکہ ایک طویل المدتی سیاسی منصوبے کی شکل اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔
چترال کے عوام سے رابطہ
طلحہ محمود جب چترال کا دورہ کرتے ہیں تو ان کی سرگرمیوں میں عوامی ملاقاتیں، مقامی عمائدین سے رابطے، سیاسی مشاورت اور فلاحی سرگرمیاں نمایاں رہتی ہیں۔
ان کے بارے میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ وہ اپنی ذاتی استطاعت کے مطابق علاقے کے ضرورت مند افراد کی مدد کرتے ہیں اور ترقیاتی کاموں میں بھی حصہ ڈالتے ہیں۔
اسی وجہ سے ان کے قریبی حلقے ان کی چترال میں سرگرمیوں کو سیاست سے بڑھ کر خدمت کا منصوبہ قرار دیتے ہیں۔
چترالی ثقافت اور مقامی روایات سے وابستگی پیدا کرنے کے لیے مہمانوں کو چترالی ٹوپی اور شہد جیسے تحائف پیش کرنا بھی ان کی عوامی رابطہ مہم کا ایک دلچسپ پہلو بن چکا ہے۔
مہمان نوازی اور عوامی تعلق
طلحہ محمود کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کی مہمان نوازی بھی ہے۔ ان کے سیاسی و سماجی حلقے میں یہ بات عام طور پر بیان کی جاتی ہے کہ ان کا دسترخوان دوستوں، سیاسی کارکنوں، عمائدین اور مہمانوں کے لیے کھلا رہتا ہے۔
پاکستانی سیاست میں جہاں سیاسی تعلقات اکثر صرف جماعتی وابستگیوں تک محدود ہوجاتے ہیں، وہاں ذاتی روابط اور مہمان نوازی کا یہ انداز کسی بھی سیاست دان کے لیے ایک مضبوط سماجی سرمایہ بن سکتا ہے۔
چترال میں بھی وہ مقامی لوگوں کے ساتھ براہِ راست رابطے کو اپنی سیاسی حکمت عملی کا اہم حصہ بناتے دکھائی دیتے ہیں۔
غریب پروری اور فلاحی سرگرمیاں
طلحہ محمود کے سیاسی تعارف میں فلاحی کام ایک اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے حامیوں کے مطابق وہ اپنی ذاتی دولت کا ایک حصہ غریب، مستحق اور ضرورت مند افراد کی مدد پر خرچ کرتے رہے ہیں۔
ان کی فلاحی سرگرمیوں میں تعلیم، صحت، مالی معاونت اور قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کی مدد جیسے شعبے شامل رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ان کے سیاسی حلقے انہیں محض روایتی سیاست دان کے بجائے غریب پرور اور خدمت گزار سیاست دان کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
البتہ ذاتی وسائل سے ہونے والے تمام اخراجات کے مکمل آزادانہ مالی اعدادوشمار دستیاب نہ ہونے کی صورت میں ان دعوؤں کو ان کے سیاسی اور سماجی حلقوں کے مؤقف کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔
"حکومت سے ایک پائی نہیں لی”
طلحہ محمود اپنی سیاسی زندگی کے حوالے سے یہ مؤقف بھی پیش کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے تقریباً 20 سالہ پارلیمانی سفر میں حکومت سے ذاتی مالی فائدہ یا مراعات حاصل کرنے کے بجائے اپنی ذاتی استطاعت سے عوامی خدمت کو ترجیح دی۔
یہ دعویٰ ان کی سیاسی شخصیت کے اس بیانیے کا حصہ ہے جس میں وہ سیاست کو ذاتی مفاد کے بجائے خدمت قرار دیتے ہیں۔
تاہم اس دعوے کی مکمل مالی تصدیق کے لیے سرکاری تنخواہوں، مراعات اور دیگر فوائد کا تفصیلی ریکارڈ درکار ہوگا، اس لیے اسے ان کا بیان ہی سمجھ کر پیش کرنا زیادہ محتاط صحافتی طرز ہے۔
محمد طلحہ محمود فاؤنڈیشن سے "ٹیم محمد طلحہ محمود” تک
ان کے سیاسی سفر میں ایک اور تبدیلی فلاحی سرگرمیوں کے تنظیمی ڈھانچے سے متعلق بتائی جاتی ہے۔ ان کے مطابق محمد طلحہ محمود فاؤنڈیشن کو ختم کرکے اسے "ٹیم محمد طلحہ محمود” کی شکل دی گئی ہے۔
اس تبدیلی کو ان کے حامی ایک ایسے ماڈل کے طور پر دیکھتے ہیں جس میں فلاحی کاموں کو ایک محدود ادارے کے بجائے سیاسی و سماجی کارکنوں کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے آگے بڑھایا جاسکے۔
کیا واقعی وہ ذوالفقار علی بھٹو کے نقشِ قدم پر ہیں؟
طلحہ محمود کو ذوالفقار علی بھٹو کے نقشِ قدم پر چلنے سے تشبیہ دینا بنیادی طور پر ایک سیاسی تجزیہ اور تشبیہ ہے، کوئی ثابت شدہ تاریخی مماثلت نہیں۔
اس تشبیہ کی بنیاد ان کے چترال میں عوامی رابطے، ذاتی وسائل سے فلاحی سرگرمیوں، دور دراز علاقے کو اپنی سیاست کا مرکز بنانے اور عام آدمی تک براہِ راست پہنچنے کی کوشش پر رکھی جاسکتی ہے۔
بھٹو کی سیاست میں بھی عوامی رابطہ، بڑے سیاسی وژن اور ملک کے مختلف علاقوں میں سیاسی بنیاد بنانے کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ طلحہ محمود کے چترال منصوبے کو اسی زاویے سے دیکھنے والے اسے "عوامی رابطے کے ذریعے سیاسی بنیاد مضبوط کرنے” کی حکمت عملی قرار دیتے ہیں۔
تاہم دونوں شخصیات کے نظریاتی، تاریخی اور سیاسی کردار میں واضح فرق موجود ہے، اس لیے یہ مماثلت محدود معنوں میں ہی قابلِ اطلاق ہے۔
چترال میں اصل امتحان
طلحہ محمود کے لیے چترال میں سیاسی کامیابی کا اصل امتحان آنے والے انتخابات سے کہیں پہلے شروع ہوچکا ہے۔
انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کا چترال سے تعلق صرف انتخابی ضرورت نہیں بلکہ ایک مستقل سیاسی وابستگی ہے۔
اگر وہ:
- چترال کے لیے مستقل ترقیاتی آواز بنے رہتے ہیں؛
- سڑکوں، صحت، تعلیم اور مواصلات کے مسائل قومی سطح پر اٹھاتے ہیں؛
- مقامی سیاسی قیادت اور نوجوانوں کو ساتھ ملاتے ہیں؛
- سیاحت اور روزگار کے مواقع کے لیے عملی اقدامات کی حمایت کرتے ہیں؛
- اور عوامی رابطہ انتخابات کے درمیان بھی برقرار رکھتے ہیں؛
تو وہ چترال میں اپنی سیاسی بنیاد مزید مضبوط کرسکتے ہیں۔