تحریر: حاجی نواز رضا

تھے تو کشمیری لیکن پاکستانی کہلوانے پر فخر محسوس کرتے تھے عظیم کشمیری لیڈر سید علی گیلانی جو برملا یہ کہتے تھے "ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا یے” کی پانچویں برسی عقیدت واحترام سی منائی گئی تقریب ک اہتمام آل پارٹیز حریت کانفرنس نے کیا لیکن ایسا دکھائی دیتا تھا کہ اس تقریب کے کرتا دھرتا ممتاز کشمیری رہنما محمد الطاف بھٹ ہیں وہی احباب کو اس تقریب میں مدعو کر رہے تھے انیوں نے نہ صرف مجھے تقریب میں مدعو کیا بلکہ کہا کہ صحافتی برادری کو لے کر آئیں شکرپڑیاں میں پاکستان مونامنٹ میں منعقدہ تقریب میں کچھ وقت گذارا سید علی گیلانی کی تصویر پر دستخط کئے بعدازاں مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کئے سید علی گیلانی جیسا عظیم پاکستانی شاید ہی کوئی کشمیری لیڈروں ہو وہیں استاد محترم بشیر سلطان ، منظور ڈار اور دیگر صحافی دوستوں سے ملاقات ہوئی ۔ میں ان جند خوش نصیب صحافیوں میں سے ہوں جنہوں نے سید علی گیلانی کی محفل میں بیٹھنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے میری ان سے 2006 میں حج کے موقع پر ملاقاتوں کا موقع ملا ہم رابطہ عالم اسلامی کے مہمان تھے مجھے یاد ہے وہ مجھے بے تکلفی سے نواز کہہ کر بلایا کرتے تھے ان سے ملاقات کے دن کو اپنی زندگی کا یادگار دن قرار دیا تھا یہ پاکستان سے محبت کرنے والے کشمیریوں کا اجتماع تھا جن کی منزل پاکستان ہے جو اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پاکستان آ بسے ہیں جہاں کچھ بھارت کے آلہء کار انہیں آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی سے باہر رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جسے سواد اعظم نے مسترد کر دیا ہے۔سید علی گیلانی بلا،شک و شبہ حریت کا استعارہ تھے تحریک آزادی کشمیر کا تابندہ مینارہ تھےسید گیلانی کا عزم کوہ گراں تھا جرات و استقامت کا لازوال نشان تھا سید گیلانی کشمیری عوام کے دلوں پر حکمرانی کرتے تھے پاکستان پرچم میں آسودہ خاک ہوئے۔ سید علی شاہ گیلانی 29 ستمبر 1929کو شمالی کشمیر کے علاقےزوری منز بانڈی پورہ میں پیدا ہوئےاور5 سال قبل قید کی حالت میں وفات پا گئے ہندوستانی حکومت نے ان کو دن کے اجالے میں سپرد خاک کرنے کی اجازت نہیں دی اور رات خے اندھیرے میں اپنی نگرانی میں سپرد خاک کرایا۔

سید علی گیلانی – "ہڑتالوں کے سردار” اور "تحریک آزادی کی جان” ۔کشمیر کی سرزمین پر اگر کسی ایک نام نے 3 نسلوں تک "تحریک آزادی” کا پرچم بلند رکھا تو وہ *سید علی شاہ گیلانی* تھے 29 ستمبر 2021 کو وہ 92 سال کی عمر میں سری نگر میں وفات پا گئے، لیکن ان کی آواز آج بھی وادی کے پتھروں سے ٹکراتی ہےسوپور کے مدرسے سے سیاست تک کا طویل سفر طے کیا جامعہ اسلامیہ، لاہور سے دینی تعلیم حاصل کی 1962 میں جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر سوپور سے اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

انہیں "ماسٹر صاحب” بھی کہا جاتا تھا۔

سیاست کے 3 ادوار*الف: جماعت اسلامی کا دور 1962-1987*

گیلانی نے 15 سال تک جماعت اسلامی کے نمائندے کے طور پر اسمبلی میں آواز اٹھائی۔ ان کا نعرہ تھا "کشمیر کا الحاق پاکستان سے”۔

ب: آل پارٹیز حریت کانفرنس کا دور 1993-2003*

1993 میں حریت کانفرنس بننے پر وہ اس کے بانی چیئرمین بنے۔ 2003 تک وہ APHC کے سربراہ رہے۔ اسی دوران ان پر کئی قاتلانہ حملے ہوئے۔

*ج: حریت گیلانی گروپ 2003-2021*

جب حریت میں اختلاف ہوا تو انہوں نے اپنا گروپ بنایا۔ یہ گروپ سب سے سخت گیر اور "پاکستان نواز” موقف رکھتا تھا۔

*3. گیلانی کی 5 بنیادیں*

1. *”کشمیر بنے گا پاکستان”*: یہ ان کا آخری سانس تک کا نعرہ تھا۔ دو قومی نظریے پر کامل یقین۔

2. *ہڑتال اور احتجاج*: 2008، 2010 اور 2016 کی تحریکوں میں ان کے "کیلنڈر” سے وادی بند ہو جاتی تھی۔ انہیں 10 سال سے زیادہ گھر میں نظر بند رکھا گیا۔

3. *جیل اور نظر بندی*: زندگی کے 13 سال جیل میں گزارے۔ 2010 سے 2020 تک مسلسل نظر بند رہے۔

4. *قلم اور تقریر*: "رودادِ قفس” اور "وطن کی آواز” ان کی کتابیں ہیں۔ ان کی تقریں کشمیر کے ہر گھر میں سنی جاتیں۔

5. *سادگی*: ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے تھے۔ حکومت نے ان کی پنشن اور سہولیات بھی بند کر دیں تھیں۔

*ناقدین کہتے ہیں*: "گیلانی مذاکرات کے مخالف تھے۔ ان کی وجہ سے کشمیر کا حل نہیں نکلا” جب کہحامی کہتے ہیں*: "گیلانی نے کشمیر کے سودے کو روکے رکھا۔ جب سب تھک گئے، وہ ڈٹے رہے”۔

پاکستان انہیں "کشمیر کا سفیر” کہتا تھا۔ بھارت انہیں "علیحدگی پسند” کہتا تھا۔ کشمیری انہیں "بابا” کہتے تھے۔

*5. آخری وصیت*

ان کی آخری وصیت تھی:

"مجھے شہداء کے قبرستان میں دفنایا جائے اور جنازہ پاکستانی پرچم میں پڑھایا جائے”ھارتی فورسز نے رات کے اندھیرے میں ان کا جنازہ پڑھایا اور فوراً تدفین کر دی۔ اس پر پورے کشمیر میں کرفیو لگ گیا۔

*6. گیلانی کا سبق*

سید علی گیلانی نے ثابت کیا کہ *”ایک شخص بھی تحریک کو زندہ رکھ سکتا ہے”*۔

ان کے پاس نہ وزارت تھی، نہ بندوق، نہ پیسہ۔ تھا تو صرف یقین۔

وہ کہتے تھے:

"ہم نے آزادی کا سودا نہیں کرنا۔ ہم نے نسلیں قربان کی ہیں، اب منزل دور نہیں”

سید علی گیلانی کشمیر کی اس نسل کی علامت تھے جس نے 1947 سے 2021 تک "حق خودارادیت” کا مطالبہ نہیں چھوڑا۔ وہ آج نہیں ہیں، لیکن ان کا بیانیہ – "کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے” – آج بھی زندہ ہے۔

تاریخ انہیں جدوجہد آزادی کے”ہیرو” کے طور پر یاد رکھے گی۔ لیکن ایک بات طے ہے: کشمیر کی تحریک کا ذکر گیلانی کے بغیر ادھورا ہے۔