اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے مولانا فضل الرحمن کے بارے میں نواب غوث بخش باروزئی کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی دینی، سیاسی اور قومی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔
اپنے بیان میں مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ وہ نواب غوث بخش باروزئی کا احترام کرتے ہیں اور انہیں ایک قبائلی معتبر اور سیاسی شخصیت سمجھتے رہے ہیں، تاہم افسوس ہے کہ سیاسی منظرنامے سے طویل عرصے بعد سامنے آنے والا ان کا پہلا انٹرویو قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کے خلاف تھا۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی شخصیت، کردار، سیاسی بصیرت اور دینی و ملی خدمات روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، ملک کی مختلف سیاسی قوتیں اور عالمی سطح پر اہم سیاسی حلقے ان کا احترام کرتے ہیں۔
مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے آئین سازی، تحفظ ختم نبوت، اٹھارویں آئینی ترمیم اور ملکی و قومی مفادات کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ ہندوستان کے ساتھ تعلقات، فلسطین کی آزادی، حرمین شریفین کے تحفظ اور افغانستان، ایران اور چین سمیت برادر ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی ان کا مؤقف اور کردار سب کے سامنے ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ مولانا فضل الرحمن کی کوئی دینی خدمات نہیں، تاریخی اور سیاسی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ نواب غوث بخش باروزئی کو سیاسی اختلاف کو سیاسی دائرے تک محدود رکھنا چاہیے اور کسی دینی و سیاسی رہنما کی خدمات کو نظر انداز کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ وہ نواب غوث بخش باروزئی کی عزت اور احترام کرتے ہیں، تاہم اگر سیاسی رہنماؤں کے خلاف مزید غیر مناسب باتیں کی گئیں تو وہ بھی جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب کے سیاسی اور عملی کردار کا ریکارڈ موجود ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ سیاسی اختلافات کو شائستگی کے دائرے میں رکھا جائے۔