اسلام آباد: تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے حکومت پر زور دیا ہے کہ سیاسی کشیدگی، مبینہ ناانصافیوں اور صوبوں کے ساتھ اختلافات ختم کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں سنجیدہ مذاکرات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش مسائل کا حل آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری اور جمہوری نظام میں ہے، طاقت کے استعمال میں نہیں۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم شہباز شریف کو براہ راست مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں دو کرسیاں رکھی جائیں، ایک پر وزیراعظم بیٹھیں اور دوسری پر وہ خود، تاکہ تمام معاملات پر کھل کر بات ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو مزید سیاسی تصادم کی طرف لے جانے کے بجائے فریقین کو بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
محمود خان اچکزئی نے خیبر پختونخوا، بالخصوص پشاور میں ہونے والی کارروائیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں روکنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ حکومت واضح کرے کہ ایمرجنسی کس مقصد کے تحت نافذ کی گئی ہے۔ ان کے بقول سیاسی مسائل کا حل آئینی طریقہ کار اور عوامی اعتماد کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔
قائد حزب اختلاف نے موجودہ حکومت کے قیام اور انتخابی عمل پر بھی اعتراضات اٹھائے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ 8 فروری 2024ء کے انتخابات میں عوامی مینڈیٹ کو متاثر کیا گیا اور سیاسی جماعتوں کو ان کے انتخابی حق سے محروم کرنے کی کوششیں ہوئیں۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے ووٹ اور سیاسی آزادیوں کا احترام کیے بغیر ملک میں استحکام ممکن نہیں۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان ایک رضاکارانہ وفاق ہے، جہاں تمام قومیتوں اور صوبوں کو برابر کے حقوق ملنے چاہییں۔ انہوں نے زور دیا کہ پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی اور پنجابی عوام کو اپنے وسائل پر اختیار حاصل ہونا چاہیے اور پارلیمنٹ کو ریاستی فیصلوں کا حقیقی مرکز بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے زمینوں، معدنی وسائل اور پانی کے معاملات پر بھی تحفظات ظاہر کیے اور دعویٰ کیا کہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور مقامی آبادیوں کے حقوق نظرانداز کرنے سے عوام میں بے چینی بڑھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبوں اور قومیتوں کے جائز مطالبات کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی تو اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
خطاب میں محمود خان اچکزئی نے ملک کی معاشی صورت حال، غربت اور مبینہ بدعنوانی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ عوام مہنگائی اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ حکومتی عہدیداروں اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی وسائل کے استعمال میں شفافیت یقینی بنائیں۔ انہوں نے متعلقہ اداروں سے بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات اور حقائق عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔
قائد حزب اختلاف نے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی ملک کے مفاد میں نہیں۔ ان کے مطابق پارلیمنٹ کو اہم خارجہ اور سلامتی کے معاملات پر اعتماد میں لیا جانا چاہیے، تاکہ قومی فیصلوں میں عوامی نمائندوں کا کردار مؤثر ہو۔
محمود خان اچکزئی نے دہشت گردی کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے سابقہ پالیسیوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے قبائلی علاقوں میں سماجی شخصیات کے قتل، شہری آبادیوں کو درپیش خطرات اور عوامی حقوق کے تحفظ پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کی ذمہ داری اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے، نہ کہ انہیں خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہونے دینا۔
عمران خان سے ملاقات پر پابندیوں اور ان کے ساتھ مبینہ مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سیاسی مسائل کے حل کے لیے سیاسی شخصیات پر اعتماد کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے پیشکش کی کہ وہ عمران خان سے ملاقات کرکے ان کا مؤقف سننے اور متعلقہ فریقین کے درمیان اختلافات دور کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی معاملے پر عمران خان کا مؤقف غلط ثابت ہوا تو وہ انہیں اس سے آگاہ کریں گے، لیکن اگر ان کا مؤقف درست ہو تو اسے طاقت کے ذریعے دبانا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے ماضی کے سیاسی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ سیاسی مخالفین کے خلاف سخت اقدامات اور جبر کی پالیسی ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایسے حالات سے بچانے کے لیے حکومت اور اپوزیشن کو مذاکرات، برداشت اور آئینی اصولوں کی طرف واپس آنا ہوگا۔
محمود خان اچکزئی نے اپنے خطاب کے اختتام پر تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ اختلافات کے باوجود پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی بقا اور استحکام کا راستہ آئین کی بالادستی، صوبائی خودمختاری، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور جمہوری اداروں کی مضبوطی سے ہو کر گزرتا ہے۔
واضح رہے کہ خطاب میں محمود خان اچکزئی کی جانب سے حکومت، انتخابی عمل، ریاستی پالیسیوں اور مختلف اداروں سے متعلق متعدد الزامات اور دعوے کیے گئے۔ ان دعوؤں پر حکومت اور متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے آنا بھی ضروری ہے تاکہ معاملے کی مکمل تصویر سامنے آسکے۔