اسلام آباد: پرنس بہاول عباس خان عباسی کے اسلام آباد میں واقع گھر میں مبینہ چوری کی واردات کے دوران ریاستِ بہاولپور کے دور سے تعلق رکھنے والے قیمتی اور تاریخی شاہی نوادرات چوری ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق چوری ہونے والے نوادرات کی مالیت کروڑوں روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ چوری ہونے والی اشیا میں ریاستِ بہاولپور کے تاریخی دور سے تعلق رکھنے والی متعدد نایاب اشیا شامل ہیں۔
چوری ہونے والے شاہی نوادرات میں چاندی کی تخت نما کرسی، چاندی کی سیڑھی، قیمتی پیالے، مختلف مجسمے، ریاستِ بہاولپور کے نشان والی سونے کی طشتریاں، بڑا چاندی کا فریم اور ریاستی دور کی تاریخی تلواریں اور مسکٹ بندوقیں شامل ہیں۔
مارگلہ پولیس کی کارروائی
واقعے کی اطلاع ملنے پر مارگلہ تھانہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گھر کے ایک گھریلو ملازم کو حراست میں لے لیا ہے اور اس سے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔
پولیس کی جانب سے واردات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ چوری ہونے والے تاریخی نوادرات کی بازیابی کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق چوری ہونے والی اشیا نہ صرف مالی اعتبار سے قیمتی ہیں بلکہ ان کی تاریخی اہمیت بھی ہے، کیونکہ ان میں ریاستِ بہاولپور کے سابق دور سے منسلک نوادرات اور ریاستی علامات شامل ہیں۔
شاہی نوادرات کی بازیابی کا مطالبہ
واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت پاکستان اور متعلقہ ادارے معاملے کا فوری نوٹس لیں اور واردات میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کرکے چوری شدہ تاریخی نوادرات برآمد کیے جائیں۔
یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ ریاستِ بہاولپور سے تعلق رکھنے والی تاریخی اشیا کی اہمیت کے پیش نظر ان کی بازیابی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں تاکہ یہ قیمتی ورثہ ضائع یا بیرونِ ملک منتقل ہونے سے محفوظ رہ سکے۔