لاہور: نائب امیر جماعت اسلامی اور مجلس قائمہ سیاسی قومی امور کے صدر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد حکومتی لیوی کا خاتمہ اور آئی پی پیز کے مالی بوجھ سے نجات جماعت اسلامی کا واضح اور دوٹوک مطالبہ ہے۔

میڈیا نمائندگان کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ پیداواری لاگت میں کمی اور عوام پر غیر ضروری مالی بوجھ کے خاتمے سے قومی معیشت کا پہیہ چل سکتا ہے۔ ان کے بقول زراعت، صنعت، تجارت اور گھریلو صنعت کو فروغ ملے گا، جبکہ قومی محصولات کی جائز وصولی بھی بہتر ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکمران ٹیکس چوری اور ٹیکسوں کی مکمل وصولی نہ ہونے کی بات کرتے ہیں، تاہم وفاقی اور صوبائی سرکاری محکموں میں موجود کرپشن بھی قومی خزانے کے نقصان کا سبب بنتی ہے۔ ان کے مطابق سرکاری اداروں میں رشوت اور بدعنوانی کے باعث وفاقی اور صوبائی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔

لیاقت بلوچ نے حکومت کے پٹرول ریلیف پیکیج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس کے نام پر صارفین کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور متبادل تجاویز کا مقصد قومی معیشت کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لیے ایک لائحہ عمل پیش کرنا ہے۔

انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ جماعت اسلامی کے احتجاج، لانگ مارچ اور عوامی جذبات کو حکومتی فیصلوں کے لیے دباؤ کے بجائے اصلاحات کا ذریعہ بنایا جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے اور پیداواری لاگت میں کمی واقع ہو۔

جماعت اسلامی کے احتجاج کے حوالے سے لیاقت بلوچ نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے ان کی جماعت کی جدوجہد پُرامن، سیاسی، جمہوری اور آئینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک طویل جدوجہد ہے اور جماعت اسلامی احتجاج کو ہر قیمت پر پُرامن رکھنے کی پالیسی پر قائم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹکراؤ اور دھینگا مشتی کرنا آسان ہے، تاہم صبر، استقامت اور مشقت کے ساتھ عوامی ریلیف کے لیے جدوجہد کرنا زیادہ مشکل کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی احتجاج کو پُرتشدد بنانے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی پی ٹی آئی کے احتجاج کے ساتھ ٹکراؤ کے حکومتی وزرا اور انتظامیہ کے کسی بھی حربے کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ ان کے مطابق پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور آئی پی پیز کے اخراجات کے بوجھ سے نجات کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن دانش مندی، قومی جذبے اور پُرامن سیاسی و جمہوری مزاحمت کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ جماعت اسلامی ملتان سے لاہور، لاہور سے اسلام آباد اور خیبرپختونخوا سے اسلام آباد تک اپنی احتجاجی حکمت عملی کے تحت جدوجہد جاری رکھے گی۔

لیاقت بلوچ کے مطابق حافظ نعیم الرحمن نے جماعتی قائدین سے مشاورت کے بعد اسلام آباد سپر لانگ مارچ کو فی الوقت وزیراعظم سے ملاقات تک مؤخر کیا ہے۔ ان کے مطابق سپر لانگ مارچ کا ملتان میں پڑاؤ برقرار رہے گا، جبکہ اس دوران دھرنوں کو مزید شہروں تک وسعت دینے اور بڑے شہروں میں عوامی جلسوں کے ذریعے احتجاج کو منظم کرنے کی تیاری کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک بھر میں تنظیم سازی، احتجاج اور آئندہ کے مراحل کی تیاری کے لیے متحرک رہے گی اور پٹرولیم لیوی کے خاتمے سمیت عوامی ریلیف کے مطالبات کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔