قراقرم کی فلک بوس چوٹیاں صرف برف، چٹانوں اور گلیشیئرز کا نام نہیں، بلکہ وہ ایسی بے شمار کہانیوں کی امین بھی ہیں جن میں کچھ لوگ ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتے ہیں۔ سپانٹک چوٹی پر پیش آنے والا یہ واقعہ بھی انہی لازوال داستانوں میں سے ایک ہے۔
34 سالہ ڈاکٹر اسماء مشتاق، جو ضلع شیخوپورہ کے علاقے شرقپور شریف سے تعلق رکھتی تھیں اور برطانیہ میں بطور گائناکالوجسٹ خدمات انجام دے رہی تھیں، ایک خواب لیے پاکستان آئیں۔ برسوں کی محنت، تربیت اور عزم کے بعد انہوں نے 7,027 میٹر بلند سپانٹک چوٹی سر کر لی۔ وہ لمحہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی تھا، مگر کسی کو اندازہ نہ تھا کہ یہی کامیابی ان کا آخری سفر بھی بن جائے گی۔
چوٹی سے واپسی کے دوران، کیمپ تھری کے قریب تقریباً 6,400 میٹر کی بلندی پر اچانک ان کی طبیعت بگڑ گئی۔ برفانی ہوائیں چیخ رہی تھیں، درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے بہت نیچے جا چکا تھا، اور ہر گزرتا لمحہ امید کو کمزور کر رہا تھا۔ ساتھیوں نے انہیں بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن 21 اگست کو وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔
ان کے انتقال کے بعد ایک اور آزمائش شروع ہوئی۔ خراب موسم، برفانی طوفان، گہری دراڑیں اور مسلسل خطرات کی وجہ سے ان کا جسدِ خاکی وہیں رہ گیا۔ کئی ریسکیو کوششیں ناکام ہوئیں، جبکہ خبریں گردش کرتی رہیں کہ لاش کو نیچے لانے کے لیے لاکھوں روپے درکار ہوں گے۔ اہلِ خانہ بے بسی کے عالم میں صرف دعا کر سکتے تھے۔
اسی دوران گلگت بلتستان کے ضلع شگر کے علاقے ارندو سے چھ عام مگر غیرمعمولی لوگ خاموشی سے آگے بڑھے۔ ان کی قیادت تجربہ کار کوہ پیما محبوب علی ارندو کر رہے تھے، جبکہ ان کے ساتھ نواب عباس، حسین بیگ، حسین علی، مظاہر حسین اور عابدین نمبردار بھی شامل تھے۔
وہ جانتے تھے کہ اس راستے پر ہر قدم موت کے سائے میں اٹھے گا۔ ایک معمولی لغزش سینکڑوں فٹ گہری کھائی میں گرا سکتی تھی، ایک برفانی تودہ پوری ٹیم کو دفن کر سکتا تھا، مگر انہوں نے خوف کو اپنے ارادوں پر غالب نہیں آنے دیا۔
دو ہفتوں تک وہ برف، پتھروں، تیز ہواؤں اور خطرناک گلیشیئرز سے لڑتے رہے۔ آخرکار وہ اس مقام تک پہنچ گئے جہاں ڈاکٹر اسماء کا جسدِ خاکی برف میں دبا ہوا تھا۔ انہوں نے انتہائی احترام اور احتیاط کے ساتھ اسے برف سے نکالا اور اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر کندھوں پر اٹھائے نیچے لے آئے۔
یہ صرف ایک ریسکیو آپریشن نہیں تھا، بلکہ انسانیت کے احترام کی ایسی مثال تھی جو الفاظ سے کہیں بڑی ہے۔
جب غمزدہ خاندان نے ان رضاکاروں کی خدمت کے اعتراف میں 30 لاکھ روپے پیش کیے، تو ہر کسی کو لگا کہ شاید وہ یہ رقم قبول کر لیں گے۔ مگر ان کے جواب نے سب کو خاموش کر دیا۔
انہوں نے کہا:
"ہم نے یہ کام صرف اللہ کی رضا کے لیے کیا ہے۔ اس خدمت کی کوئی قیمت نہیں ہو سکتی۔”
ان چند الفاظ نے ثابت کر دیا کہ دنیا میں آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن کے نزدیک انسانی وقار، اخلاص اور اللہ کی رضا ہر دولت سے بڑھ کر ہے۔
ڈاکٹر اسماء مشتاق اپنے خواب کی تکمیل کے بعد ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئیں، لیکن انہیں آخری احترام کے ساتھ ان کے اہلِ خانہ تک پہنچانے والے یہ چھ گمنام ہیرو ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ انہوں نے صرف ایک جسدِ خاکی نہیں اٹھایا، بلکہ پوری قوم کے سر فخر سے بلند کر دیے۔
بعض لوگ اپنی دولت سے پہچانے جاتے ہیں، بعض اپنے عہدوں سے… مگر محبوب علی ارندو اور ان کے ساتھیوں نے ثابت کیا کہ اصل عظمت انسانیت کی خدمت، بے لوث جذبے اور اللہ کی رضا کے لیے کیے گئے عمل میں ہے۔ یہی کردار قوموں کو زندہ رکھتے ہیں اور یہی کہانیاں نسلوں کو حوصلہ دیتی ہیں۔