اسلام آباد: نائب امیر جماعت اسلامی، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ حرمین الشریفین کے تحفظ اور پاکستان کے بااعتماد اور عزیز ترین دوست ملک سعودی عرب کی سلامتی کےلئے حکومتِ پاکستان، افواجِ پاکستان جو بھی اقدام کریں پوری قوم کی حمایت انہیں حاصل ہے. خطہ میں جنگ مسلط کرکے کشیدگی قائم
رکھنا، اقتصادی تباہی کا بھیانک کھیل جاری رکھنا امریکہ، اسرائیل کا ایجنڈا ہے. خطے کے اسلامی ممالک کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کےلئے انجینئرڈ حملے اور مختلف ممالک کی فورسز میں موجود اپنے آلہ کاروں کو استعمال کرنا بعید از قیاس نہیں. تاریخ شاہد ہے کہ خطہ میں سعودی عرب، ایران، عراق، کویت، پاکستان، افغانستان، خلیجی ممالک کے مابین سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اختلافات پیدا کئے گئے اور مسلمان ہی مسلمانوں کے ہاتھوں ہلاکتوں کا شکار ہوتے رہے. عالمِ اسلام کے حالات اور وقت کا تقاضا ہے کہ مسلم ممالک کی قیادت واضح اور بامقصد، تعمیری اتحادِ اُمّت کے ایجنڈے پر متحد ہوجائیں وگرنہ یہود و ہنود کی سازشیں مسلمانوں کےلئے تباہی لاتی رہیں گی. سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ، ایران، قطر کی قیادت بلاتاخیر سربراہی کانفرنس منعقد کریں اور خطہ میں کشیدگی کا خاتمہ کریں.
لیاقت بلوچ نے کراچی سے اسلام آباد سُپر ٹرین مارچ کے قائد حافظ نعیم الرحمن سے ٹیلی فونک رابطہ اور صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا. جماعتِ اسلامی کا عوامی حقوق کے حصول کےلئے احتجاج پُرامن، باوقار اور قومی وحدت کے جذبوں کو فروغ دینے کی قومی علامت ہے. حکومتی مذاکراتی ٹیم کے پاس پٹرولیم لیوی ختم کرنے اور قومی محصولات میں اضافہ کے حوالے سے جماعتِ اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کی تجاویز، تجزیہ اور سفارشات کو ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں. حکومت روایتی تاخیری حربے استعمال کررہی ہے. حکومتی اور جماعتی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان بہت اچھے ماحول میں تعمیری، سیاسی، جمہوری انداز میں مذاکرات ہوئے ہیں. مذاکرات کے آخری راؤنڈ میں حکومتی ٹیم نے کہا ہے کہ جماعتِ اسلامی کے احتجاج اور تجاویز پر حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات طے کرلئے ہیں لیکن وزیراعظم میاں شہباز شریف بیرونِ ملک ہیں، آئی ایم ایف کا اہم ترین دورہ شروع ہورہا ہے اور صوبوں کے ساتھ بھی بعض اقدامات کے حوالے سے مذاکرات جاری ہے اس لئے جماعتِ اسلامی مزید مہلت دے تاکہ عوامی ریلیف کا جامع پیکج لایا جاسکے.

لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعتِ اسلامی، پی ٹی آئی، کسان اتحاد کو عوامی فلاح اور سیاسی بحرانوں کے خاتمہ کےلئے احتجاج کا آئینی، جمہوری حق حاصل ہے. حکومت 27 ستمبر کے احتجاج کی آڑ میں جماعتِ اسلامی اور پی ٹی آئی کو ٹکرانے کی سازش کررہی ہے.27 ستمبر کے احتجاج کے پیچھے چھپ کر حکومت بلیک میل کررہی ہے. جماعتِ اسلامی پی ٹی آئی احتجاج کے ساتھ کسی صورت ٹکراؤ، فساد نہیں ہونے دے گی. کوئی ایسا اقدام. نہیں ہوگا جس سے سیاست، جمہوریت کمزور ہو اور ہائبرڈ نظام، اسٹیبلشمنٹ کی اندھی طاقت میں مزید اضافہ ہو.