تہران: ایران نے بحیرۂ عمان کے ساحل پر واقع اہم بندرگاہ چابہار کو اپنے قومی ریلوے نیٹ ورک سے ملانے والی 735 کلومیٹر طویل چابہار زاہدان ریلوے لائن کی تعمیر مکمل کرلی ہے، جبکہ منصوبے کو باقاعدہ آپریشن میں لانے کی تیاریاں جاری ہیں۔

چابہار سے زاہدان تک تعمیر کی گئی یہ ریلوے لائن ایران کے لیے تجارتی اور علاقائی رابطوں کے اعتبار سے ایک اہم منصوبہ قرار دی جا رہی ہے۔ منصوبے پر باقاعدہ تعمیراتی کام کا آغاز 2020 میں ہوا تھا اور اب ریل بچھانے کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے۔

یہ سنگل ٹریک اسٹینڈرڈ گیج ریلوے لائن ہے، جس کی مرکزی پٹری تقریباً 630 کلومیٹر طویل ہے، جبکہ اسٹیشنوں کی یارڈ لائنوں اور دیگر شاخوں کو شامل کیا جائے تو مجموعی ریلوے انفراسٹرکچر تقریباً 735 کلومیٹر بنتا ہے۔ منصوبے میں 33 ریلوے اسٹیشن شامل ہیں اور یہ لائن چابہار سے نیک شہر، ایران شہر اور خاش سے ہوتی ہوئی زاہدان تک پہنچتی ہے۔

پہاڑی اور صحرائی علاقے میں تعمیر کیے گئے اس منصوبے میں 39 سرنگیں شامل ہیں جن کی مجموعی لمبائی تقریباً 17 کلومیٹر ہے، جبکہ 201 بڑے پل اور خصوصی گزرگاہیں بھی تعمیر کی گئی ہیں۔ منصوبے کے تحت تقریباً 2 ہزار نکاسیٔ آب کے ڈھانچے بھی بنائے گئے، جبکہ تعمیر کے دوران تقریباً 7 کروڑ مکعب میٹر مٹی کی کھدائی اور 25 لاکھ مکعب میٹر کنکریٹ استعمال کیا گیا۔

ریلوے لائن میں تقریباً 90 ہزار ٹن مقامی طور پر تیار کردہ ریل استعمال کی گئی ہے۔ اسے مسافر ٹرینوں کے لیے زیادہ سے زیادہ 120 کلومیٹر فی گھنٹہ جبکہ مال گاڑیوں کے لیے 90 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے۔

مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد چابہار زاہدان ریلوے لائن سالانہ تقریباً 22 لاکھ مسافروں اور 77 لاکھ ٹن سامان کی نقل و حمل کی صلاحیت رکھے گی۔ منصوبے کا بنیادی مقصد چابہار بندرگاہ کو ایران کے اندرونی علاقوں اور قومی ریلوے نیٹ ورک سے جوڑ کر تجارتی سامان کی نقل و حرکت اور علاقائی ٹرانزٹ کو فروغ دینا ہے۔

چابہار زاہدان ریلوے منصوبہ پاکستان کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ زاہدان پہلے ہی پاکستان کے ریلوے نظام سے منسلک ہے۔ پاکستان کی کوئٹہ تفتان ریلوے لائن زاہدان تک جاتی ہے، تاہم دونوں ممالک کے ریلوے نظام کے درمیان گیج کا فرق موجود ہے۔

پاکستان میں 1,676 ملی میٹر براڈ گیج جبکہ ایران میں 1,435 ملی میٹر اسٹینڈرڈ گیج استعمال ہوتی ہے، جس کے باعث زاہدان پر دونوں ریلوے نظاموں کے درمیان بریک آف گیج موجود ہے اور سامان کی منتقلی کے لیے اضافی انتظامات درکار ہوتے ہیں۔

یوں چابہار سے زاہدان تک نئی ریلوے لائن کی تکمیل سے چابہار بندرگاہ کو زاہدان کے ذریعے پاکستان کے موجودہ ریلوے رابطے سے جوڑنے کا ایک اہم علاقائی راستہ مزید مضبوط ہوسکتا ہے۔ اس رابطے کے ذریعے پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت اور مال برداری کے نئے امکانات پیدا ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔