اسلام آباد: ختمِ نبوت کے معروف عالمِ دین اور مبلغ حضرت مولانا اللہ وسایا نے کہا ہے کہ سانپ اور بچھو سے صلح ہوسکتی ہے لیکن محمد عربی ﷺ کے دشمن قادیانیوں سے صلح نہیں ہوسکتی۔

مولانا اللہ وسایا نے عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے مسلمانوں کو اس عقیدے کی اہمیت سے آگاہ کرنے اور اس کے پیغام کو عام کرنے پر زور دیا۔

حضرت مولانا اللہ وسایا نے اپنی زندگی عقیدۂ ختمِ نبوت کی حفاظت، تعلیم، دعوت و تبلیغ اور تصنیف کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ انہوں نے علمی و تحقیقی کاوشوں کے ذریعے عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

ان کی دینی و علمی خدمات کے حوالے سے ان کے عقیدت مندوں کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا اللہ وسایا کی تمام خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے، انہیں صحت و عافیت دے اور عقیدۂ ختمِ نبوت کی خدمت کے لیے ان کی کاوشوں کو امتِ مسلمہ کے لیے نفع بخش بنائے۔