اسلام آباد: سینئر تجزیہ نگار حفیظ اللہ خان نیازی نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی گورنر راج کے نفاذ کے لیے پشاور پہنچ گئے ہیں، تاہم ان کے بقول اگر تحریک انصاف اپنے خلاف گورنر راج نافذ کروانے میں کامیاب ہوگئی تو یہ شکاری کے اپنے ہی بچھائے جال میں پھنسنے کے مترادف ہوگا۔

حفیظ اللہ نیازی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں کہا کہ اگر خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ ہوا تو اسے موجودہ نظام کے ’’خاتمہ بالخیر‘‘ کا باقاعدہ نقطۂ آغاز سمجھا جائے گا اور بعد میں سب ایک دوسرے سے پوچھتے پھریں گے کہ انہیں دھکا کس نے دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وہ یقین سے کہتے ہیں کہ گورنر راج نافذ کرنے کی ہمت کہاں سے آئے گی، اگر ہمت ہوتی تو یہ اقدام دو ہفتے پہلے ہی کر دیا جاتا۔

سینئر تجزیہ نگار نے مزید کہا کہ اگر بالفرض گورنر راج نافذ بھی کردیا گیا تو تحریک انصاف کو اس سے بڑا سیاسی تحفہ شاید ہی کوئی دیا جاسکے، کیونکہ اس کے نتیجے میں تحریک انصاف کو خیبرپختونخوا حکومت سے جان چھڑانے کا موقع مل جائے گا۔

حفیظ اللہ نیازی نے حکومتی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا سیاسی بلنڈر مسلسل استقامت کے ساتھ کرنے والوں کے اگر ایسے دوست موجود ہوں تو انہیں دشمنوں کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ گورنر راج کے ذریعے تحریک انصاف کو قابو کرنے نکلے تھے، لیکن اپنے ہی نظام کی چولیں ہلا بیٹھے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا نتیجہ ’’کھیل ختم، پیسہ ہضم‘‘ کی صورت میں نکل سکتا ہے۔