اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے 25 نومبر کے دھرنے کے دوران بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے جیل سے ویڈیو پیغام ریکارڈ کرانے کے معاملے کی تفصیلات بیان کر دیں۔

محسن نقوی کے مطابق حکومت نے پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش کی اور احتجاج کے حوالے سے متبادل راستے بھی فراہم کرنے کی کوشش کی، تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے فون پر بات کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ فون پر بات کرانے کے بعد بھی پارٹی کے بعض رہنماؤں نے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا اور مطالبہ کیا کہ عمران خان کا جیل کے اندر سے ویڈیو پیغام ریکارڈ کرایا جائے، جس کے بعد دھرنا ملتوی کرنے یا سنگجانی منتقل ہونے پر غور کیا جائے گا۔

وزیر داخلہ کے مطابق صدر اور وزیراعظم نے بھی ہدایت کی کہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے یہ مطالبہ پورا کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس سلسلے میں بیرسٹر گوہر کو بلایا گیا تاکہ عمران خان کا ویڈیو پیغام ریکارڈ کیا جا سکے۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ حکومتی وفد نے تقریباً دو گھنٹے انتظار کیا۔ اس دوران عمران خان نے پہلے مصروفیت کا اظہار کیا اور بعد ازاں ریکارڈنگ پر آمادگی ظاہر کی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریکارڈنگ شروع ہونے کے وقت عمران خان نے بیرسٹر گوہر کے موبائل فون سے ویڈیو بنانے کی شرط رکھی، جسے قبول کر لیا گیا۔ تاہم، اس کے بعد عمران خان نے سلاخوں کے پیچھے سے ویڈیو ریکارڈ کرانے کی خواہش ظاہر کی، جس پر حکام نے اتفاق کیا۔

محسن نقوی کے مطابق جب عمران خان کو سلاخوں کے پیچھے ریکارڈنگ کے لیے لے جایا گیا تو انہوں نے اسی روز ویڈیو پیغام ریکارڈ کرانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اگلے روز اپنے وکلا کو بلانے کے بعد اس معاملے پر بات کریں گے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ اس تمام معاملے کے عینی شاہد پی ٹی آئی کے اپنے رہنما بھی ہیں۔