لندن/پاکستان: پاکستان کی فضائی تاریخ سے جڑا ایک دلچسپ اور جذباتی واقعہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جس میں 1962ء میں پانچ ماہ کے جڑواں بچوں نے والدین کے بغیر لندن سے پاکستان کا سفر کیا۔ فہیم اور عفرہ نامی یہ بہن بھائی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی پرواز کے ذریعے پاکستان پہنچے، جہاں انہیں جہلم میں اپنی خالہ کے پاس رہنا تھا۔

دستیاب بیان کے مطابق، یہ جڑواں بچے 11 مارچ 1962ء کو پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والدین ڈاکٹر تھے اور برطانیہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ تعلیم مکمل نہ ہونے کے باعث والدین نے بچوں کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا، تاکہ وہ جہلم میں اپنی خالہ کے پاس رہ سکیں، جو خود بھی ڈاکٹر تھیں۔

پی آئی اے کی ایئر ہوسٹسوں نے بچوں کی دیکھ بھال کی

اس واقعے کی ایک خاص بات یہ ہے کہ لندن کے ہوائی اڈے پر بچوں کو ان کے والدین سے رخصت کرتے وقت پی آئی اے کی دو ایئر ہوسٹسوں، مومی گل درانی اور راشدہ، نے انہیں اپنی شفقت اور توجہ میں لے لیا۔ بیان کے مطابق، دونوں نے دورانِ سفر بچوں کی دیکھ بھال کی اور انہیں ایسے سنبھالا جیسے وہ ان کے اپنے بچے ہوں۔

اس زمانے میں اتنی کم عمر کے جڑواں بچوں کا والدین کے بغیر بین الاقوامی فضائی سفر یقیناً غیر معمولی واقعہ تھا۔ پی آئی اے کی ایئر ہوسٹسوں کی جانب سے بچوں کی نگہداشت نے اس سفر کو ایک یادگار انسانی داستان بنا دیا۔

مومی گل درانی کی المناک موت

مومی گل درانی اپنے دور میں پی آئی اے کی معروف اور مقبول ایئر ہوسٹسوں میں شمار ہوتی تھیں۔ ان کی تصاویر ایئرلائن کے پوسٹروں اور اشتہارات میں بھی شائع ہوتی تھیں۔ تاہم، ان کی زندگی کا اختتام ایک المناک فضائی حادثے میں ہوا۔

20 مئی 1965ء کو قاہرہ کے لیے پی آئی اے کی افتتاحی پرواز کے دوران پیش آنے والے حادثے میں مومی گل درانی بھی جاں بحق ہو گئیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق، اس حادثے میں 114 ممتاز شخصیات جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔

فہیم اور عفرہ اب کہاں ہیں؟

فہیم اور عفرہ 11 مارچ 1962ء کو پیدا ہوئے تھے۔ اگر وہ حیات ہیں تو اکتوبر 2026ء میں ان کی عمر 64 سال ہے۔ ان کے بچپن کے اس غیر معمولی سفر کی یاد آج بھی ایک اہم سوال اٹھاتی ہے: کیا ان جڑواں بہن بھائیوں یا ان کے خاندان کے کسی فرد کے پاس اس واقعے سے متعلق مزید معلومات، تصاویر یا یادیں موجود ہیں؟

یہ کہانی نہ صرف پی آئی اے کے ابتدائی دور کی یاد دلاتی ہے بلکہ ان ایئر ہوسٹسوں کی پیشہ ورانہ ذمہ داری، ہمدردی اور انسانی جذبے کو بھی اجاگر کرتی ہے، جنہوں نے ہزاروں فٹ کی بلندی پر دو ننھے بچوں کو اپنے پیار اور توجہ سے سنبھالا۔

عوام سے اپیل: اگر کوئی فہیم اور عفرہ کو جانتا ہے، یا ان کے خاندان، اس سفر اور مومی گل درانی کے بارے میں مستند معلومات رکھتا ہے، تو وہ یہ تفصیلات سامنے لائے تاکہ پاکستان کی فضائی تاریخ کے اس یادگار واقعے کو مزید مستند انداز میں محفوظ کیا جا سکے۔

نوٹ: یہ رپورٹ فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ بچوں کی شناخت، سفر کی تفصیلات اور حادثے سے متعلق اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔