اسلام آباد: 26 نومبر 2024ء کے احتجاج کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت اور حکومت کے درمیان ہونے والی مبینہ پسِ پردہ بات چیت اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ویڈیو پیغام کی ریکارڈنگ سے متعلق واقعات ایک بار پھر سیاسی بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔ صحافی رؤف کلاسرا کے بیان اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے مؤقف کے تناظر میں اس معاملے پر نئی توجہ دی جا رہی ہے۔
رؤف کلاسرا کے بیان کے مطابق، اڈیالہ جیل میں عمران خان کا ویڈیو پیغام ریکارڈ کرانے کی کوشش کی گئی تھی، جس کا مقصد مبینہ طور پر اسلام آباد میں موجود پی ٹی آئی کے احتجاجی قافلوں، بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور کو ڈی چوک کی جانب پیش قدمی سے روکنے کا پیغام دینا تھا۔ تاہم، اس مبینہ کوشش کے دوران ویڈیو ریکارڈنگ مختلف وجوہات کی بنا پر مؤخر ہوتی رہی۔
بیان کے مطابق، عمران خان سے ملاقات کے لیے تقریباً دو گھنٹے انتظار کیا گیا۔ بعد ازاں جب ویڈیو ریکارڈ کرنے کا مرحلہ آیا تو پہلے سرکاری اہلکار کے موبائل فون سے ریکارڈنگ کی بات ہوئی، لیکن عمران خان نے بیرسٹر گوہر کے موبائل فون سے ویڈیو بنانے کی خواہش ظاہر کی۔ اس کے بعد بیرسٹر گوہر کا فون منگوایا گیا، تاہم ریکارڈنگ شروع ہونے سے پہلے ایک مرتبہ پھر طریقۂ کار تبدیل کرنے کا کہا گیا۔
رؤف کلاسرا کے بیان کے مطابق، عمران خان نے اس کے بعد سلاخوں کے پیچھے کھڑے ہو کر ویڈیو ریکارڈ کرانے کی خواہش ظاہر کی۔ حکام اس پر بھی آمادہ ہو گئے اور انہیں سلاخوں کے پیچھے لے جایا گیا، لیکن وہاں پہنچنے کے بعد انہوں نے ویڈیو پیغام اسی روز ریکارڈ کرانے کے بجائے اگلے دن تک مؤخر کرنے کا کہا۔
اس دوران اسلام آباد کے مختلف مقامات پر پی ٹی آئی کے کارکن موجود تھے اور احتجاجی سرگرمیاں جاری تھیں۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 26 نمبر چونگی کے مقام پر بشریٰ بی بی نے احتجاجی شرکا کو آگے بڑھنے کی ترغیب دی، جبکہ علی امین گنڈاپور اور عمر ایوب کے کردار پر بھی نعرے بازی کی گئی۔ تاہم، ان تفصیلات اور واقعات کی ترتیب کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی سینیٹ میں اپنے بیان کے دوران عمران خان کے ویڈیو پیغام کی ریکارڈنگ کی کوششوں، انتظار اور ریکارڈنگ مؤخر ہونے سے متعلق تفصیلات بیان کیں۔ ان کے بیان کے بعد حکومت کی جانب سے احتجاج کو روکنے اور ممکنہ تصادم سے بچنے کے لیے کی جانے والی کوششوں پر بحث میں اضافہ ہوا ہے۔
حکومتی مؤقف کے حامی اس واقعے کو اس بات کی دلیل قرار دے رہے ہیں کہ حکومت نے احتجاج کو پُرامن طریقے سے ختم یا منتقل کرنے کے لیے کوششیں کیں، لیکن مطلوبہ پیش رفت نہ ہو سکی۔ دوسری جانب، اس معاملے پر پی ٹی آئی کا مؤقف اور اس وقت ہونے والی گفتگو کی مکمل تفصیلات بھی اہم ہیں، تاکہ واقعے کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جا سکے۔
26 نومبر 2024ء کے احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعات پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب ہیں۔ عمران خان کے مبینہ ویڈیو پیغام کی ریکارڈنگ سے متعلق دعوے اس بات کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں کہ سیاسی کشیدگی کے ایسے مواقع پر مذاکرات، بروقت فیصلے اور فریقین کے درمیان رابطہ کس قدر اہم ہوتے ہیں۔