کئی صدیوں تک مسجد الحرام میں چار الگ الگ مقامات پر نماز ادا کی جاتی تھی، جہاں فقہ کے مختلف مکاتبِ فکر کے افراد اپنے اپنے امام کی اقتدا میں باری باری نماز پڑھتے تھے۔
عام طور پر شافعی مسلک کے افراد سب سے پہلے نماز ادا کرتے، جس کے بعد دوسرے مکاتبِ فکر کی جماعتیں قائم ہوتیں۔ اس طرح ایک ہی نماز دن میں کئی مرتبہ دہرائی جاتی تھی۔
27 اکتوبر 1926ء کو شاہ عبدالعزیز نے اس روایت کو ختم کرنے کا حکم دیا۔ علما کے اتفاقِ رائے سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام مسلمان ایک ہی امام کی اقتدا میں نماز ادا کریں گے۔
اس فیصلے کے بعد سے مسجد الحرام میں ہر فرض نماز کے لیے ایک ہی جماعت قائم ہوتی ہے۔ الگ الگ جماعتوں اور مکاتبِ فکر کے لیے مخصوص نماز کے مقامات کا سلسلہ ختم ہوگیا۔
یہ نظام نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرامؓ کے طریقۂ نماز سے مطابقت رکھتا ہے، جس میں تمام نمازی ایک امام کے پیچھے متحد ہوکر نماز ادا کرتے ہیں۔
آج اس نظام کو برقرار ہوئے پورے 100 سال مکمل ہوچکے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں آج بھی لاکھوں مسلمان ایک امام کی اقتدا میں ایک ہی صف میں کھڑے ہوکر نماز ادا کرتے ہیں، جو اتحاد، اخوت اور وحدتِ امت کی خوبصورت علامت ہے۔