ٹورانٹو: کینیڈا کے سب سے بڑے شہر ٹورانٹو کے بلدیاتی انتخابات میں پاکستانی نژاد مسلم خاتون اسما ملک ایک بار پھر سٹی کونسلر منتخب ہوگئی ہیں۔ انہوں نے وارڈ نمبر 10، اسپاڈائنا فورٹ یارک سے 21 ہزار 975 ووٹ حاصل کیے اور اپنے قریبی حریف ایان کننگھم کو 8 ہزار 570 ووٹوں سے شکست دی۔

26 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق اسما ملک نے ڈالے گئے ووٹوں کا تقریباً 47.3 فیصد حاصل کیا، جبکہ ایان کننگھم 13 ہزار 405 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ تیسرے نمبر پر آنے والے امیدوار شوئے ڈنگ نے 3 ہزار 767 ووٹ حاصل کیے۔

اسما ملک کینیڈا کی سیاسی تاریخ میں حجاب پہن کر عوامی عہدے پر منتخب ہونے والی پہلی مسلم خاتون ہیں۔ وہ 2014 میں ٹورانٹو ڈسٹرکٹ اسکول بورڈ کی ٹرسٹی منتخب ہوئی تھیں اور 2018 تک اس عہدے پر خدمات انجام دیتی رہیں۔ بعدازاں 2022 کے بلدیاتی انتخابات میں ٹورانٹو سٹی کونسل کی رکن منتخب ہوئیں، جبکہ 2023 میں میئر اولیویا چاؤ نے انہیں فرسٹ ڈپٹی میئر مقرر کیا۔

اسما ملک طویل عرصے سے سماجی انصاف، نسلی مساوات، تعلیم، ماحولیات، خواتین کے حقوق اور شہری سہولتوں کی بہتری کے لیے سرگرم ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی آف ٹورانٹو سے تعلیم حاصل کی اور 2016 سے 2022 تک ایٹکنسن فاؤنڈیشن میں ڈائریکٹر آف ایڈووکیسی اینڈ آرگنائزنگ کے طور پر خدمات انجام دیں، جہاں انہوں نے بہتر روزگار، معاشی انصاف اور سماجی ترقی کے منصوبوں پر کام کیا۔

ان کی اہم ترجیحات میں سستی رہائش کی فراہمی، پبلک ٹرانزٹ کے نظام میں بہتری، محفوظ سڑکوں کی تعمیر، عوامی مقامات کی ترقی اور شہریوں کو بہتر سہولتوں کی فراہمی شامل ہیں۔

ٹورانٹو ڈسٹرکٹ اسکول بورڈ کی ٹرسٹی کی حیثیت سے اسما ملک نے شہر کے مرکزی علاقے میں جین لمب پبلک اسکول کے قیام کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا۔ یہ دو دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد ڈاؤن ٹاؤن ٹورانٹو میں قائم ہونے والا پہلا نیا سرکاری اسکول تھا۔

وہ ٹورانٹو سٹی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی، اکنامک اینڈ کمیونٹی ڈیولپمنٹ کمیٹی، ٹورانٹو اینڈ ایسٹ یارک کمیونٹی کونسل اور بورڈ آف ہیلتھ سمیت مختلف اہم اداروں اور کمیٹیوں میں بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔

اسما ملک کی دوبارہ انتخابی کامیابی کو ٹورانٹو کی بلدیاتی سیاست میں پاکستانی نژاد اور مسلم کمیونٹی کی نمائندگی کے تسلسل کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ٹورانٹو ایسا شہر ہونا چاہیے جہاں تمام کمیونٹیز کو مساوی مواقع، محفوظ ماحول، بہتر شہری سہولتیں اور اپنے مسائل کے حل کے لیے مؤثر نمائندگی حاصل ہو۔