اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے اسلام آباد کی طرف مارچ کی کوشش کے بعد وفاقی دارالحکومت کا رخ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں امن و امان برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

خواجہ آصف نے اپنے بیان میں کہا کہ پی ٹی آئی کے بعض رہنما اسلام آباد کو سومنات کے مندر سے تشبیہ دے رہے ہیں، تاہم ان کے بقول یہ ان کی آخری کوشش ہوگی۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کی اعلیٰ سطحی قیادت کے اجلاس میں 27 ستمبر کو ہونے والے مجوزہ لانگ مارچ کو 5 سے 10 اکتوبر تک مؤخر کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ اجلاس میں بیرسٹر گوہر، سہیل آفریدی، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ اور جنید اکبر سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس میں پی ٹی آئی قیادت کی اکثریت نے لانگ مارچ کی تاریخ آگے بڑھانے کی تجویز دی۔ پارٹی رہنماؤں نے حکومت کی جانب سے اسلام آباد اور مختلف شاہراہوں کی مبینہ بندش پر بھی گفتگو کی اور اسے حکومت کی جانب سے دباؤ کی حکمت عملی قرار دیا۔

اجلاس میں اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کے کردار سے متعلق بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ پی ٹی آئی قیادت کے مطابق دیگر سیاسی جماعتوں، جن میں جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پاکستان پیپلز پارٹی شامل ہیں، سے بھی رابطے جاری ہیں۔

وفاقی حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ اسلام آباد میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے مارچ اور اس کی آئندہ حکمت عملی سے متعلق حتمی فیصلہ پارٹی قیادت کی مشاورت کے بعد متوقع ہے۔