(عابد حسین دستی)
ڈاکٹر محمد یونس کو امریکہ کے جے ایف کے ہوائی اڈے پر عوامی لیگ کے حامیوں کی جانب سے مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا۔ ان کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرتے ہوئے کہا گیا: ’’تم دہشت گرد ہو! تم نے بنگلہ دیشیوں کو قتل کیا ہے! یہاں کیوں آئے ہو؟‘‘ 86 سالہ ڈاکٹر محمد یونس وہیل چیئر پر باہر نکل رہے تھے کہ یہ ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔
ڈاکٹر یونس کو بیرونِ ملک سے بنگلہ دیش کی حکومت چلانے کے لیے بلانے والے اب کہاں ہیں؟ وہ انہیں تحفظ فراہم کرنے میں کیوں ناکام ہیں؟
یونس صاحب نے عالمی سطح پر جس طالب علم مشیر کو ماسٹر مائنڈ کے طور پر متعارف کرایا تھا، وہ ’’پاگل محفوظ‘‘ اب کہاں ہے؟ ایک معزز شخصیت کو اس طرح کی توہین اور تذلیل کیوں برداشت کرنا پڑ رہی ہے؟ ڈاکٹر یونس کو ہراساں کیے جانے کے خلاف ملک میں احتجاجی ریلیوں کی کال دی جانی چاہیے تھی۔
ڈاکٹر یونس کا قصور صرف یہ ہے کہ عوامی لیگ کی حکومت کے خاتمے کے بعد انہوں نے اس مفلوج ریاست کی باگ ڈور کیوں سنبھالی؟ سابقہ حکومت کے خاتمے کی تحریک میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔ وہ خود جولائی کی عوامی بغاوت میں شرکت کے لیے نہیں آئے تھے۔ انہوں نے صرف عوامی لیگ کی چھوڑی ہوئی مفلوج ریاست کو دوبارہ چلانے کے لیے ذمہ داری سنبھالی تھی، اور یہی ان کا جرم بن گیا۔
میں اس بات کا چیلنج دے سکتا ہوں کہ اگر ڈاکٹر یونس بیرونِ ملک سے آکر اس ملک کی باگ ڈور نہ سنبھالتے تو بنگلہ دیش میں قحط کی صورتِ حال پیدا ہو جاتی۔ ملک کے حالات کتنے زیادہ خراب ہو سکتے تھے، اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
ڈاکٹر یونس ملک کی دولت بیرونِ ملک منتقل کرنے نہیں آئے تھے۔ ان کے پاس اتنی دولت اور جائیداد ہے کہ وہ خود پورے بنگلہ دیش کو خرید سکتے ہیں۔ انہیں پیسے کا کوئی لالچ نہیں تھا۔ وہ صرف ملک کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے طلبہ کی دعوت پر امریکہ سے بنگلہ دیش آئے تھے۔
بنگلہ دیش کے مشکل وقت میں وہ ملک کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ جولائی کی عوامی بغاوت کے بعد پیدا ہونے والے حالات کی سنگینی کا احساس بھی انہوں نے عوام کو نہیں ہونے دیا۔ دنیا کے مختلف ممالک میں کسی بھی عوامی بغاوت کے بعد اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں اور قحط جیسی صورتِ حال پیدا ہو جاتی ہے۔ اللہ کے فضل و کرم سے انہوں نے بنگلہ دیش کو اس تباہی سے بچایا۔ کیا یہی ان کا جرم ہے؟
ڈاکٹر یونس کو کم از کم 5 سال تک ملک کی باگ ڈور سونپی جانی چاہیے تھی۔ اگر ایسا ہوتا تو ملک میں بدعنوانی نہ رہتی، حملے، مقدمات، جیلیں، ظلم و زیادتی اور ناانصافی ختم ہو جاتی۔ بجلی، گیس اور کھاد کی قلت پیدا نہ ہوتی اور پٹرول کی قیمتیں آسمان کو نہ چھوتیں۔
اس ملک کے نادان بنگالیوں نے اچھے لوگوں کی قدر کرنا نہیں سیکھا۔ یہاں کے لوگ بدعنوان اور رشوت خور افراد کو اپنا رہنما بناتے ہیں۔