تحریر: ارشاد محمود

8 اکتوبر کو اس خاکسار نے تجویز دی تھی کہ پونچھ ڈویژن سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں کی قیادت راولاکوٹ اور سدھنوتی میں جاری دھرنوں اور ہڑتالوں کا حل تلاش کرنے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے اور حکومت/مقتدرہ اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ایک باوقار سیاسی سمجھوتے کی راہ نکالے۔

الحمدللہ، آج فیس بک پر یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کی رہائش گاہ پر سیاسی قیادت کا ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سابق صدر و وزیراعظم سردار محمد یعقوب خان، مسلم لیگ ن کے صدر شاہ غلام قادر، سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان، اپوزیشن لیڈر و صدر پاکستان پیپلزپارٹی آزاد کشمیر چوہدری محمد یاسین، سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان، سابق امیر جماعت اسلامی عبدالرشید ترابی اور ڈاکٹر خالد محمود نے شرکت کی۔

اجلاس میں پونچھ ڈویژن میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور ایک باوقار و آبرومندانہ سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس اجتماع کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اس میں حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے صدر شاہ غلام قادر اور راجہ فاروق حیدر خان شریک ہوئے، جبکہ پیپلزپارٹی کے صدر اور اپوزیشن لیڈر چوہدری محمد یاسین اور سردار محمد یعقوب خان کی موجودگی سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں اس بحران کے سیاسی حل کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں۔

اس وقت اصل سوال یہ ہے کہ دھرنوں میں موجود لوگوں کو محفوظ اور باعزت واپسی کا راستہ کیسے دیا جائے، گرفتار افراد کی رہائی کیسے ممکن ہو اور احتجاج کے دوران جانیں گنوانے والوں کے خاندانوں کے دکھ اور مطالبات کا ازالہ کیسے کیا جائے۔

عوامی ایکشن کمیٹی اور اس کے حامیوں کو بھی یہ ادراک کرنا ہوگا کہ احتجاج کا مقصد حکومت کو شکست دینا نہیں بلکہ اپنے مطالبات پیش کرنا اور ان کے حق میں سیاسی دباؤ اور فضا پیدا کرنا ہوتا ہے۔ مہاجرین کی نشستوں اور گورننس کے دوسرے مطالبات اب بڑی حد تک پس منظر میں جا چکے ہیں؛ ان سے کہیں بڑا بحران اور کہیں زیادہ تلخی پیدا ہوچکی ہے۔

اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی حیثیت اور مقامی حکومت کے اختیار کو کیسے محفوظ رکھا جائے۔ وفاقی اداروں اور مظفرآباد کے درمیان اختیارات کا مسئلہ پہلے ہی پیچیدہ ہے۔یہ بھی خدشہ ہے کہ آزادکشمیر کو حاصل آئینی اور انتظامی اختیارات بھی سلب کیے جاسکتے ہیں۔ جس طرح کا ماحول پاکستان میں اس کے پس منظر میں کچھ بھی ممکن ہے۔ اس نوع کے چیلنجز کا مقابلہ کسی ایک جماعت یا گروہ کے بس کی بات نہیں؛ اس کے لیے اجتماعی سیاسی حکمتِ عملی درکار ہے۔

عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کو بھی اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لینا چاہیے۔ قومی دھارے کی جماعتوں اور منتخب سیاسی قیادت کے خلاف اختیار کیے گئے سخت لب و لہجے اور بعض توہین آمیز القابات نے مقامی سیاسی قیادت کو ایکشن کمیٹی کے مقابل لا کھڑا کیا۔ دوسری طرف سیاست دانوں نے بھی ایکشن کمیٹی کے خلاف جوابی حملے کیے۔ اس کشیدگی کا نقصان بالآخر عوامی ایکشن کمیٹی اور عام شہریوں ہی کو اٹھانا پڑا۔ اب یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔

میرے خیال میں عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کو اس مشاورتی عمل کا خیرمقدم کرنا چاہیے اور ان سیاسی رہنماؤں کو یہ موقع دینا چاہیے کہ وہ حکومت اور مقتدرہ کے ساتھ مذاکرات کرکے کوئی قابلِ قبول درمیانی راستہ نکالیں، تاکہ پونچھ ڈویژن میں معمولاتِ زندگی بحال ہوں اور سیاسی و انتخابی عمل بھی آگے بڑھ سکے۔

سردار عتیق احمد خان، سردار محمد یعقوب خان، شاہ غلام قادر، راجہ فاروق حیدر خان، چوہدری محمد یاسین، سردار تنویر الیاس خان، عبدالرشید ترابی اور ڈاکٹر خالد محمود سے بھی گزارش ہے کہ حالیہ تلخیوں کو پسِ پشت ڈال کر قائدانہ کردار ادا کریں۔ نوجوانوں کی تنقید اور وقتی سیاسی نقصان کی پروا کیے بغیر آگے بڑھیں۔ اس وقت ضرورت کسی کی فتح یا شکست کی نہیں بلکہ آزاد کشمیر، بالخصوص پونچھ، کو مزید نقصان سے بچانے اور سیاسی راستہ کھولنے کی ہے۔

اگر مقتدرہ ہمت اور تدبر کا مظاہرہ کرے تو یہی سیاسی قیادت راولاکوٹ جا سکتی ہے، عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں سے براہِ راست بات کر سکتی ہے اور ایسا درمیانی راستہ نکال سکتی ہے جس میں کسی فریق کو شکست یا ہزیمت کا احساس نہ ہو۔

مقتدرہ کو بھی یہ ادراک کرنا چاہیے کہ چار ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور تمام تر ریاستی طاقت کے استعمال کے باوجود اگر مسئلہ حل نہیں ہوسکا تو اب حکمتِ عملی بدلنے میں کوئی حرج نہیں۔ ایک معروف حدیث کا مفہوم ہے کہ حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے، جہاں سے ملے اسے حاصل کرنا چاہیے۔ کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ ضد اور انا پر اڑے رہو، خواہ انسانی جانوں کا ضیاع ہی کیوں نہ ہوتا رہے۔

قومی دھارے کی جماعتوں میں یہ تمام شخصیات صفِ اول کی قیادت میں شمار ہوتی ہیں۔ انہیں موقع دیا جائے، اعتماد دیا جائے اور مذاکرات کے لیے غیر ضروری اگر مگر اور پیشگی شرائط عائد نہ کی جائیں۔ اس کوشش کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے، کیونکہ کسی نہ کسی مرحلے پر سیاسی مسئلے کا حل سیاسی راستے ہی سے نکلے گا۔

عوامی ایکشن کمیٹی کے عمر نذیر کشمیری ایک اعتدال پسند رہنما ہیں۔ انہیں موجودہ بحران کے سیاسی حل کی طرف قدم بڑھانا چاہیے۔ موجودہ صدر، وزیراعظم اور اسپیکر بھی اچھی شہرت کے حامل ہیں۔ انہیں کمزور کرنے کے بجائے موقع دیا جائے کہ وہ اس مسئلے کے حل میں اپنا کردار ادا کریں۔

ان شاء اللہ، اجتماعی دانش، تحمل اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے جذبے سے ہم اس آزمائش سے نکل سکتے ہیں اور آزاد کشمیر میں ایک بار پھر معمول کی زندگی بحال ہوسکتی ہے۔