تحریر: ڈاکٹر عبدالقدیر یوسفزئی
بے شک، انجینئر امیر مقام خان خیبرپختونخوا کی سیاست کا ایک عظیم باب ہے۔ وہ ایک عام سیاستدان نہیں، بلکہ ایک نظریہ، ایک تحریک، اور وفا کی علامت ہے۔ وہ طاقتور اس لیے نہیں کہ اس کے پاس عہدہ ہے، بلکہ طاقتور اس لیے ہے کہ اس کے پاس عوام کی محبت ہے، کارکنوں کا اعتماد ہے، اور قائد نواز شریف کا اعتبار ہے۔
ہمیں اپنے عظیم اور محبوب لیڈر انجینئر امیر مقام خان پر بے حد فخر ہے۔ فخر اس لیے ہے کہ جب خیبرپختونخوا میں مسلم لیگ (ن) کے لیے سیاست کرنا مشکل ترین بنا دیا گیا تھا، جب ہوائیں مخالف تھیں، جب بڑے بڑے برج گر گئے تھے، جب لوگ پارٹی پرچم چھوڑ کر دوسری کشتیوں میں سوار ہو رہے تھے، تو اس مردِ مجاہد نے تنِ تنہا پارٹی کا پرچم تھامے رکھا۔ اس نے ہار نہیں مانی، اس نے میدان نہیں چھوڑا۔ آج خیبرپختونخوا میں اگر مسلم لیگ (ن) زندہ ہے، متحرک ہے، تو اس کے پیچھے ایک ہی شخص کی انتھک محنت ہے اور وہ ہے انجینئر امیر مقام۔
سوشل میڈیا کے گالی بریگیڈ کے نام:
بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کچھ لوگ جن کی اپنی کوئی سیاسی حیثیت نہیں، جن کا اپنا کوئی منشور نہیں، جنہوں نے کبھی ایک گلی بھی نہیں بنائی، وہ آج سوشل میڈیا پر بیٹھ کر ایک قد آور لیڈر کے خلاف بھونکتے ہیں، جھوٹے پروپیگنڈے کرتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں۔ ان کی کل سیاست فیس بک کی ایک فیک آئی ڈی اور ایک گالی سے شروع ہوتی ہے اور وہیں ختم ہو جاتی ہے۔
ان نادانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ گالی دینے سے، جھوٹ بولنے سے، اور بڑی بڑی تقریریں کرنے سے کوئی لیڈر نہیں بن جاتا۔ لیڈر بننے کے لیے راتوں کی نیندیں قربان کرنی پڑتی ہیں، عوام کے دروازے پر جانا پڑتا ہے، دکھ میں، سکھ میں، جنازے میں، خوشی میں شریک ہونا پڑتا ہے۔ جو کام انجینئر امیر مقام خان نے گزشتہ 20 سالوں سے کیا ہے۔
*ہماری تربیت اور ہمارے والدین کی عظمت – ہمارا فخر:*
اور رہی بات جواب کی، تو الحمدللہ ہمارے والدین نے ہماری تربیت بہت ہی بہترین، مہذب، اور باوقار انداز میں کی ہے۔
ہمیں ہمارے والدین نے یہ درس دیا ہے کہ بیٹا:
1. ہمیشہ سچ بولو، چاہے سچ کتنا ہی کڑوا کیوں نہ ہو۔
2. بڑوں کا ادب اور چھوٹوں پر شفقت کرو۔
3. اپنی زبان کو قابو میں رکھو، کیونکہ زبان ہی انسان کی عزت بناتی بھی ہے اور بگاڑتی بھی ہے۔
4. کبھی کسی کی ماں، بہن، بیٹی کو برا نہ کہو۔
ہمارے گھر میں ہمیں سکھایا گیا ہے کہ اگر کوئی تمہیں گالی دے، تو تم خاموش رہو، کیونکہ خاموشی سب سے بڑا جواب ہے۔ اگر کوئی تمہاری کردار کشی کرے، تو تم اپنی کارکردگی اور اپنے اچھے اخلاق سے اسے جواب دو۔ کیونکہ عزت دار اور اچھے خاندان کے بچے گالی سے نہیں، دلیل اور تہذیب سے بات کرتے ہیں۔
کسی کو ماں، بہن، بیٹی کی گالی دینا دراصل اپنے ہی ماں باپ کو گالی دینے کے مترادف ہے۔ جو شخص دوسروں کی ماؤں بہنوں کی عزت نہیں کرتا، وہ دراصل اپنی ماں بہن کی عزت نیلام کر رہا ہوتا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔
آج جو لوگ سوشل میڈیا پر گالیاں دیتے ہیں، وہ اپنے خاندانی پس منظر اور اپنی تربیت کا خود ثبوت دے رہے ہوتے ہیں۔ ہم ان جیسے نہیں بن سکتے، کیونکہ ہماری رگوں میں اپنے والدین کا دیا ہوا عزت دار خون ہے۔
آخری اور حتمی بات:
جو لوگ ہمیں گالیاں دیتے ہیں، وہ ہمارے جواب کے مستحق ہی نہیں ہیں۔ ہم گالی کا جواب گالی سے بالکل نہیں دیتے۔ کیونکہ ہماری تربیت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے کی ہے، ہماری تربیت قائد میاں محمد نواز شریف اور وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے کی ہے، ہماری تربیت ہمارے قائد انجینئر امیر مقام خان نے کی ہے، اور سب سے بڑھ کر ہماری تربیت ہمارے عظیم والدین نے کی ہے۔ اور ہماری تربیت میں صرف اور صرف عزت، وقار، صبر، برداشت اور تہذیب ہے۔
ہم گالی کا جواب اپنی خاموشی، اپنی اچھی تربیت اور اپنے اچھے اخلاق سے دیں گے، کیونکہ ہم اپنے والدین کی عزت اور اپنے قائد کی عزت پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے۔