تحریر: ڈاکٹر عبدالقدیر یوسفزئی
کل پشاور پریس کلب میں وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کے صدر انجینئر امیر مقام خان نے صوبے کی موجودہ سیاسی و انتظامی صورتحال پر نہایت مدلل، حقائق پر مبنی اور جرات مندانہ گفتگو کی۔
انہوں نے بڑے واضح الفاظ میں کہا کہ خیبر پختونخوا گزشتہ تیرہ سال سے بدترین طرزِ حکمرانی، بدعنوانی اور نااہلی کا شکار رہا ہے۔ صحت کارڈ جیسے فلاحی منصوبے میں اربوں روپے کی بے ضابطگیاں، سرکاری وسائل کا بے دریغ سیاسی استعمال اور صوبے کو مقروض کرنے کا حساب اب دینا ہوگا۔ انہوں نے گورنر راج کے حوالے سے آئینی پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ صوبے میں آئین و قانون کی بالادستی کے تمام تقاضے پورے ہو چکے ہیں۔
*میری ذاتی رائے میں* انجینئر امیر مقام کا یہ مؤقف صوبے کے ہر باشعور شہری کی آواز ہے۔ خیبر پختونخوا سے ہی پی ٹی آئی کی انتشار، نفرت اور تقسیم کی سیاست کا خاتمہ ہونا چاہیے، کیونکہ اس جماعت نے ہمیشہ اداروں سے ٹکراؤ، نوجوانوں میں بدتمیزی کا کلچر اور ملک میں بے یقینی کو فروغ دیا ہے۔ یہ ایک سیاسی جماعت کم اور ایک انتشاری ٹولہ زیادہ بن چکا ہے۔
افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس سچ اور حق پر مبنی تقریر کے بعد سوشل میڈیا پر کچھ مخصوص عناصر نے انجینئر امیر مقام خان کے خلاف نہایت گھٹیا، غیر اخلاقی اور بازاری زبان کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے پاس نہ دلیل ہے، نہ منطق اور نہ ہی کوئی حقیقت۔ ان کا واحد ہتھیار گالی گلوچ، کردار کشی اور شور شرابہ ہے۔
ایسے افراد جو دوسروں کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو گالیاں دیتے ہیں، وہ دراصل اپنی تربیت اور اپنے گھرانے کی عکاسی کرتے ہیں۔ جو شخص دوسرے کی عزت کا خیال نہیں رکھتا، وہ درحقیقت اپنی ماں، بہن اور بیٹی کی عزت کا بھی قائل نہیں ہوتا۔
جہاں تک دلالی کے طعنوں کی بات ہے، تو پوری قوم جانتی ہے کہ سب سے بڑا سودا کشمیر کا ہوا، جو عمران خان نیازی کے دورِ حکومت میں کیا گیا۔ کشمیر کے مسئلے پر جس مجرمانہ خاموشی اور کمزوری کا مظاہرہ کیا گیا، وہ تاریخ میں سیاہ حروف سے لکھا جائے گا۔ اور جس شخص پر یہودی لابی کی حمایت کا الزام پوری دنیا میں لگتا رہا ہو، وہ دوسروں پر کیا انگلی اٹھائے گا۔
آخر میں ایک سنجیدہ اور فکری سوال تمام باشعور لوگوں کے لیے چھوڑ رہا ہوں: اگر عمران خان واقعی ایک سچا، ایماندار اور نظریاتی لیڈر ہے، تو اس کے اپنے بچے آج بھی لندن میں ایک یہودی خاندان کے زیرِ سایہ کیوں پرورش پا رہے ہیں؟ کیونکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان جس ماحول میں زندگی گزارتا ہے، اس کے اثرات اس کی سوچ، نظریے اور کردار پر ضرور مرتب ہوتے ہیں۔