لاہور: نائب امیر جماعت اسلامی اور صدر مجلس قائمہ سیاسی قومی امور لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ حکمران اگر پُرامن، باوقار اور بامقصد عوامی احتجاج سے گھبرا جائیں تو یہ حکومتی زوال کی بڑی نشانی ہوتی ہے۔ جماعت اسلامی کا احتجاج، دھرنا اور اسلام آباد سپر مارچ ذاتی یا گروہی مفادات کے لیے نہیں بلکہ عوام کو درپیش معاشی مشکلات سے نجات کے لیے ہے۔

لاہور میں جمعہ کے خطاب، صحافیوں سے گفتگو اور اسلام آباد سپر مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کرے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے جماعت اسلامی کی تجاویز پر عمل کیا جائے۔ انہوں نے آئی پی پیز سے متعلق بھی حکومت اور وزارت پاور ڈویژن سے اقدامات تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ کراچی سے ملتان تک اسلام آباد سپر مارچ کامیابی سے جاری رہا اور اس وقت ملتان میں پڑاؤ ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت نے تاخیری حربوں اور ٹال مٹول سے کام لیا تو مارچ ملتان سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لاہور میں رکاوٹوں کے باوجود جماعت اسلامی کا پُرامن جلسہ ہوا جس میں ہزاروں مرد و خواتین اور نوجوانوں نے شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو عوامی مشکلات کے خاتمے، روزگار کے مواقع بڑھانے اور تجارت، زراعت و صنعت کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان کے مطابق پُرامن عوامی احتجاج حکومت کو عوام کے مسائل حل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔

پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے مؤخر ہونے پر لیاقت بلوچ نے کہا کہ یہ پی ٹی آئی کا اپنا فیصلہ ہے اور اسے ایسا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے سیاسی عدم برداشت، اختلافی رائے سے نفرت اور شدت پسندی کو نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاست، جمہوریت اور آئین کی بالادستی کی جدوجہد جمہوری رویوں کے ذریعے ہی کامیاب ہوتی ہے۔