خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے پہلے مردان میں جاری لانگ مارچ نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب صوبے میں تحریک انصاف کی اپنی حکومت موجود تھی اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پشاور میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں موجود تھے، تو اس احتجاج میں عوام کی بڑی تعداد کیوں شریک نہ ہوسکی؟ اگر اس لانگ مارچ میں سینکڑوں یا چند ہزار کے بجائے لاکھوں افراد موجود ہوتے اور وزیراعلیٰ سمیت اہم قیادت مسلسل ان کے درمیان کھڑی ہوتی، تو یقیناً سیاسی صورت حال مختلف ہوسکتی تھی۔ تاہم یہ کہنا کہ اس صورت میں ایمرجنسی ہرگز نافذ نہ ہوتی، ایک مفروضہ ہے۔
دستیاب میڈیا رپورٹس میں لانگ مارچ کے ساتھ تقریباً پانچ سے چھ ہزار افراد کی موجودگی کا تخمینہ سامنے آیا، جبکہ بعض مقامات پر رات کے وقت کیمپ میں صرف دو سے تین سو افراد رہ جانے کا ذکر بھی کیا گیا۔ یہ اعداد حتمی اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ گنتی نہیں، لیکن ان کی بنیاد پر یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ دن کے وقت جمع ہونے والے لوگ رات ہوتے ہی کہاں چلے جاتے تھے؟ کیا یہ تحریک عوامی سطح پر اتنی مقبول نہیں تھی جتنا دعویٰ کیا جا رہا تھا، یا تنظیمی کمزوریوں، انتظامی مشکلات اور واضح حکمت عملی کے فقدان نے کارکنوں کی شرکت کو محدود رکھا؟
ایک اور اہم پہلو قیادت کا کردار ہے۔ جب عام کارکن اپنے گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آتے ہیں، سفر کی مشکلات برداشت کرتے ہیں اور ممکنہ پولیس کارروائی کا سامنا کرتے ہیں، تو وہ توقع کرتے ہیں کہ ان کی قیادت بھی مشکل وقت میں ان کے ساتھ موجود ہوگی۔ ایسے حالات میں یہ سوال جائز ہے کہ پارٹی کی مرکزی قیادت نے کارکنوں کو متحرک رکھنے، ان کی حوصلہ افزائی کرنے اور ان کے تحفظ کے لیے کیا عملی اقدامات کیے؟ کیا ضلعی تنظیموں، ارکانِ اسمبلی اور دیگر ذمہ دار رہنماؤں نے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں؟ اور کیا کارکنوں کو احتجاج کے اگلے مراحل کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کی گئی؟
اگر صوبے میں حکومت ہونے کے باوجود کسی سیاسی جماعت کو اپنے احتجاج کے لیے وسیع عوامی شرکت یقینی بنانے میں مشکلات پیش آئیں، تو اس کی وجوہات کا سنجیدہ جائزہ لینا ضروری ہے۔ صرف عوام کو گھروں سے نہ نکلنے کا ذمہ دار ٹھہرانا کافی نہیں؛ پارٹی کی تنظیمی صلاحیت، قیادت کی حکمت عملی اور کارکنوں کے ساتھ رابطے کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ البتہ یہ طے کرنے کے لیے کہ کم شرکت کی اصل وجہ کیا تھی، مختلف مقامات کے اعداد و شمار، کارکنوں کے بیانات اور انتظامی حالات کی آزادانہ تحقیق ضروری ہے۔
سب سے تشویش ناک پہلو عام کارکنوں کی صورت حال ہے۔ اگر کارکن احتجاج کے دوران مشکلات اور گرفتاریوں کے خدشات کا سامنا کر رہے ہوں، تو قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں تنہا محسوس نہ ہونے دے، قانونی معاونت فراہم کرے اور آئندہ کے لائحۂ عمل سے آگاہ رکھے۔ اگر کارکنوں کو یہ احساس ہو کہ مشکل وقت میں قیادت ان کے درمیان موجود نہیں، تو یہ پارٹی کے اندر اعتماد اور جواب دہی سے متعلق ایک سنجیدہ مسئلہ بن جاتا ہے۔
اصل سوال یہی ہے کہ خیبرپختونخوا میں حکومت ہونے کے باوجود لانگ مارچ وسیع اور مسلسل عوامی تحریک کیوں نہ بن سکا؟ کیا مسئلہ عوامی حمایت کی کمی تھا، تنظیمی کمزوری تھی یا قیادت کی حکمت عملی میں کوئی خلا موجود تھا؟ ان سوالات کا جواب جذباتی نعروں کے بجائے حقائق اور شواہد کی بنیاد پر تلاش کرنا چاہیے، کیونکہ سیاسی تحریکوں میں کارکنوں کی قربانیوں کے ساتھ ساتھ قیادت کی ذمہ داری اور جواب دہی بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔