آج کے دور میں کسی بڑے کاروباری شخص کے پاس ذاتی جہاز ہونا بھی غیر معمولی بات سمجھی جاتی ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ تقریباً سو سال پہلے لاہور میں ایک ایسا خاندان بھی آباد تھا جس کے افراد کے پاس اپنے تین ذاتی طیارے تھے؟ اس خاندان کے کاروبار صرف لاہور تک محدود نہیں تھے بلکہ ان کی پہنچ صنعت، بینکاری، ریلوے، انشورنس اور فضائی سفر تک پھیلی ہوئی تھی۔

یہ کہانی ہے لاہور کے مشہور کاروباری خاندان میلا رام کی، جس نے لکڑی کے کاروبار سے آغاز کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑی کاروباری سلطنت قائم کرلی۔

اس خاندان کے نمایاں بزرگ رائے بہادر میلا رام 1832 میں لاہور کے ایک بااثر دیوان خاندان میں پیدا ہوئے۔ جب برصغیر میں ریلوے لائنیں بچھانے کا کام شروع ہوا تو انہوں نے لکڑی کے کاروبار کے ساتھ ریلوے کے ٹھیکوں میں بھی قدم رکھا۔ انہوں نے امرتسر سے پٹھان کوٹ ریلوے لائن کا بڑا کنٹریکٹ حاصل کیا اور لاہور سے امرتسر ریلوے کے منصوبوں میں بھی اہم حصہ لیا۔

میلا رام صرف کاروباری شخصیت نہیں تھے بلکہ فلاحی کاموں میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ 1872 میں انہوں نے موجودہ باغِ جناح کی جگہ 32 ایکڑ زمین لاہور میونسپل کارپوریشن کو عطیہ کی۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں 1886 میں انہیں ’’رائے بہادر‘‘ کا خطاب دیا گیا۔

لاہور میں آج جہاں واپڈا ہاؤس موجود ہے، وہاں کبھی میلا رام بلڈنگ ہوا کرتی تھی۔ اس عمارت میں متعدد دکانیں تھیں جبکہ مشہور نیڈو ہوٹل بھی ان کی ملکیت تھا۔ انہوں نے ریلوے اسٹیشن کے قریب مسافروں کے لیے پانی کا حوض اور بھاٹی گیٹ کے تاجروں کے لیے سرائے بھی تعمیر کروائی۔

1890 میں میلا رام کے انتقال کے بعد ان کے بڑے بیٹے سرن داس نے خاندانی کاروبار کو ایک بڑے صنعتی ایمپائر میں تبدیل کردیا۔

سرن داس نے 1898 میں لاہور میں میلا رام کاٹن مل قائم کی، جہاں ابتدا ہی میں 576 ملازمین کام کرتے تھے۔ 1940 کی دہائی تک یہ مل سالانہ 72 لاکھ روپے مالیت کا کپڑا فروخت کر رہی تھی۔ وہ بینکاری، انشورنس، تجارت اور فضائی کمپنیوں سمیت متعدد بڑے اداروں سے بھی وابستہ رہے۔

لیکن اس خاندان کی دولت اور کاروباری وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے خاندان کے افراد ذاتی ہوائی جہازوں کے مالک تھے۔

سرن داس خود ذاتی جہاز پر سفر کرتے تھے، جبکہ ان کے بیٹوں گوپال داس اور روپ چند کے پاس بھی اپنے طیارے تھے۔ گوپال داس نے 1923 میں فرانس سے چار نشستوں والا جہاز خریدا، جبکہ روپ چند نے برطانوی کمپنی کا لیپرڈ موتھ طیارہ حاصل کیا۔ روپ چند نے لاہور فلائنگ کلب کی بنیاد بھی رکھی۔

یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر میں فضائی سفر ابھی ابتدائی مراحل میں تھا، لیکن لاہور کا یہ کاروباری خاندان ذاتی جہازوں کے ذریعے سفر کر رہا تھا۔

اس خاندان کی ایک اور دلچسپ بات یہ تھی کہ ہندو مذہب سے تعلق رکھنے کے باوجود ان کی داتا دربار سے گہری عقیدت تھی۔ خاندانی روایات کے مطابق میلا رام نے اپنے بیمار بیٹے سرن داس کی صحت یابی کے لیے حضرت داتا گنج بخشؒ کے مزار پر منت مانی تھی۔ بیٹے کی صحت یابی کے بعد انہوں نے وہاں دودھ چڑھانے، لنگر اور قوالی کا اہتمام کیا۔ بعد میں خاندان نے داتا دربار پر بجلی کا کنکشن بھی لگوایا۔

سرن داس کا انتقال 23 نومبر 1945 کو لاہور میں ہوا، لیکن ان کے خاندان کی یہ کہانی آج بھی لاہور کی کاروباری تاریخ کا ایک دلچسپ باب ہے۔

سوچیے، تقریباً ایک صدی پہلے لاہور میں ایک ایسا خاندان موجود تھا جس کے پاس تین ذاتی جہاز، بڑی ٹیکسٹائل ملیں، متعدد کاروباری ادارے اور وسیع جائیدادیں تھیں۔

یہ صرف ایک امیر خاندان کی کہانی نہیں بلکہ اس دور کے لاہور کی صنعتی، تجارتی اور کاروباری وسعت کی بھی عکاسی کرتی ہے۔