تحریر: ادیب یوسفزئی

اس رکشہ ڈرائیور کی بیٹی کو سکول میں گرمی لگ رہی تھی تو انہوں نے سرکاری سکول کے لیے پنکھا خرید کر عطیہ کر دیا۔ یہ جملہ پڑھتے ہی کیا آپ کے ذہن میں نظام تعلیم سے متعلق کچھ آیا؟ آنا چاہیے۔۔۔۔

یہ لاہور کے مرکزی علاقے چوبرجی کے گورنمنٹ ہائی سکول کا واقعہ ہے۔ سکول انتظامیہ نے خود اپنے فیس بک پیج پر بتایا کہ ایک طالب علم کی کلاس میں پنکھا موجود نہیں تھا اور گرمی کے باعث بچوں کو مشکلات کا سامنا تھا۔ بچے کے والد رکشہ ڈرائیور ہیں۔ انہوں نے اپنی استطاعت کے مطابق ایک پنکھا خرید کر سکول کو عطیہ کر دیا۔

اس شخص کا شکریہ کہ اس نے اپنے بچے کی تکلیف محسوس کی لیکن سوال یہ ہے کہ ایک سرکاری سکول کے کلاس روم میں پنکھا فراہم کرنا والد کی ذمہ داری کیوں بن گئی؟ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے میرا سوال ہے کہ صوبے میں تعلیم کے لیے اربوں روپے کے بجٹ کے باوجود لاہور کے ایک سرکاری سکول میں بچوں کے لیے بنیادی سہولتیں کیوں موجود نہیں؟ کیا حکومت کو یہ نہیں معلوم کہ سکولوں میں پنکھے، پینے کا صاف پانی، فرنیچر اور دوسری بنیادی سہولتیں دستیاب ہیں یا نہیں؟ اور وزیر تعلیم رانا سکندر حیات صاحب! جب آپ سکولوں کے دورے کرتے ہیں تو کیا آپ کے سامنے صرف عمارتیں، کلاس رومز اور سرکاری بریفنگز ہی آتی ہیں یا کبھی یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ ان کلاس رومز میں بیٹھنے والے بچوں کو بنیادی سہولتیں حاصل ہیں یا نہیں؟

ایک رکشہ ڈرائیور نے اپنے بچے کی تکلیف دیکھ کر پنکھا خرید لیا۔ یہ اس باپ کی محبت اور ذمہ داری ہے لیکن اسے حکومت کی کارکردگی کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔ حکومت کا کام یہ نہیں کہ وہ صرف نئے منصوبوں کا اعلان کرے یا بڑے بڑے دعوے کرے۔ لیپ ٹاپس دینے سے پہلے پنکھا تو لگوا لیں۔

دیکھیں کہ کس قدر لوگ نظام سے مایوس ہوچکے ہیں کہ یہ باپ کسی سے کوئی مطالبہ نہیں کر رہا، کوئی احتجاج نہیں کر رہا، شکایت تک نہیں کی، بس اپنی جیب سے پنکھا خریدا اور اپنے بچے کی کلاس میں لگا دیا۔ مریم نواز صاحبہ، رانا سکندر حیات صاحب! لاہور کے ایک سرکاری سکول میں ایک باپ کو اپنے بچے کے لیے پنکھا کیوں خریدنا پڑا؟ اس ایک سوال کا جواب شاید بہت سے دوسرے سوالوں کے جواب بھی دے دے۔