منقول۔۔۔۔۔
وہ
چاہتیں تو خاموشی سے اپنی کرسی بچا سکتی تھیں ۔۔
ایک بڑے اشاعتی ادارے کی ایڈیٹر تھیں ۔۔ نام تھا ۔۔ رضیہ بھٹی ۔۔
لیکن جب انہیں محسوس ہوا کہ کرسی بچانے کے لیے قلم کو جھکانا پڑے گا ۔۔ تو انہوں نے قلم بچا لیا اور کرسی چھوڑ دی۔
رضیہ بھٹی نے 1967 میں دی السٹریٹڈ ویکلی آف پاکستان سے صحافت کا آغاز کیا۔ یہی جریدہ آگے چل کر ہیرالڈ بنا۔ رضیہ 1970 میں اسسٹنٹ ایڈیٹر اور 1976 میں ایڈیٹر بنیں۔
یہ وہ زمانہ تھا جب خواتین کو عموماً فیشن، کھانوں اور سماجی تقریبات کے صفحات تک محدود رکھا جاتا تھا ۔۔ مگر رضیہ بھٹی نے ہیرالڈ کو سیاسی اور سماجی تحقیق کا ایک سنجیدہ جریدہ بنا دیا۔
پھر جنرل ضیاء الحق کا دور آیا ۔۔ اخبارات پر دباؤ بڑھا ۔۔ الفاظ ناپے جانے لگے ۔۔ کچھ خبریں چھپنے سے پہلے ہی روک دی جاتی تھیں۔
1988 میں انتظامیہ نے ہیرالڈ کا ایک سرورق شائع ہونے سے روک دیا۔ اختلاف بڑھا اور رضیہ بھٹی کا ادارے سے برسوں پرانا تعلق ختم ہوگیا۔
عام طور پر جب کسی بڑے ادارے کا دروازہ بند ہوتا ہے تو ملازم اپنی اگلی نوکری ڈھونڈنے لگتا ہے ۔۔
مگر یہاں کچھ غیرمعمولی ہوا۔
رضیہ بھٹی کے کئی ساتھیوں نے بھی اپنی محفوظ ملازمتیں چھوڑ دیں ۔۔ کیونکہ ان کے لیے یہ صرف ایک ایڈیٹر کی رخصتی نہیں تھی ۔۔ یہ اس صحافتی اصول کی شکست تھی جس پر انہوں نے کام کرنا سیکھا تھا۔
ان لوگوں کے پاس کسی بڑے سرمایہ دار کی پشت پناہی نہیں تھی ۔۔ وسائل محدود تھے ۔۔ مگر ایک چیز بہت زیادہ تھی ۔۔ سچ لکھنے کی ضد۔
جولائی 1989 میں اسی چھوٹی سی ٹیم نے صحافیوں کی ملکیت میں ایک نیا رسالہ نکالا ۔۔ نام رکھا گیا ۔۔ نیوز لائن۔
پہلے شمارے میں رضیہ بھٹی نے پاکستانی صحافت کے سامنے آئینہ رکھتے ہوئے لکھا کہ پریس وہاں خاموش رہا جہاں اسے بولنا چاہیے تھا ۔۔ اور وہاں جھک گیا جہاں اسے ڈٹ جانا چاہیے تھا۔
نیوز لائن نے سیاسی بدعنوانی، خواتین کے حقوق، منشیات کے کاروبار، شدت پسند گروہوں اور طاقتور حکومتی و سیاسی شخصیات پر ایسی تحقیقات شائع کیں جن سے بڑے بڑے لوگ ناراض ہوئے۔
1994 میں رضیہ بھٹی کو انٹرنیشنل ویمنز میڈیا فاؤنڈیشن کا Courage in Journalism Award ملا۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی صحافی تھیں۔
لیکن عالمی اعزاز بھی انہیں محفوظ نہ بنا سکا۔
اگست 1995 میں ایک خبر پر مقدمہ قائم ہوا ۔۔ صبح سویرے پولیس ان کے گھر پہنچی ۔۔ مگر ملک بھر کے صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن ان کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ احتجاج بڑھا تو مقدمہ واپس لے لیا گیا۔
رضیہ ایک بار پھر بچ گئیں ۔۔ مگر ان کی زندگی کے پاس اب زیادہ وقت نہیں تھا۔
مارچ 1996 میں صرف 52 برس کی عمر میں رضیہ بھٹی دنیا سے رخصت ہوگئیں۔
جس عورت نے پوری زندگی دوسروں کی خبریں لکھی تھیں ۔۔ ایک دن خود پاکستان کی صحافت کی سب سے افسوس ناک خبر بن گئی۔
مگر رضیہ بھٹی کی اصل کہانی ان کی وفات نہیں ۔۔ ان کا وہ انتخاب ہے جو ہر صحافی کو کبھی نہ کبھی کرنا پڑتا ہے۔
کرسی یا اصول؟
خاموشی یا سچ؟
رضیہ نے اخبار چھوڑ دیا تھا ۔۔ قلم نہیں۔
اور شاید اسی لیے آج بھی پاکستان میں جب کوئی صحافی اپنی ملازمت سے بڑا اپنے ضمیر کو سمجھتا ہے ۔۔ تو اس فیصلے میں کہیں نہ کہیں رضیہ بھٹی زندہ ہوتی ہیں۔