تحریر: حاجی نواز رضا
وفاقی وزیر برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران اور پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کے صدر انجینئر امیر مقام کا سیاسی سفر مقامی سطح سے قومی سیاست تک پھیلا ہوا ہے۔ شانگلہ سے تعلق رکھنے والے امیر مقام نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد عملی زندگی کا آغاز بطور انجینئر کیا اور بعد ازاں سیاست میں قدم رکھا۔
25 جولائی 1963 کو شانگلہ کی تحصیل پورن میں پیدا ہونے والے انجینئر امیر مقام نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور سے مکینیکل انجینئرنگ میں بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے 2001 میں مقامی بلدیاتی انتخابات کے ذریعے عملی سیاست کا آغاز کیا۔
امیر مقام 2002، 2008 اور 2024 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 11 شانگلہ سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ موجودہ وفاقی حکومت میں انہیں امور کشمیر، گلگت بلتستان اور سیفران کی وزارتوں کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
شانگلہ اور ملاکنڈ میں ترقیاتی منصوبے
امیر مقام کی سیاسی سرگرمیوں میں ترقیاتی منصوبوں کو اہمیت حاصل رہی ہے۔ ان کے سیاسی و عوامی حلقوں کی جانب سے شانگلہ اور ملاکنڈ ڈویژن میں بجلی، ٹیلی فون نیٹ ورک، سوئی گیس، سڑکوں اور تعلیمی اداروں سمیت مختلف منصوبوں کو ان کے دور سے منسوب کیا جاتا ہے۔
ان منصوبوں میں بونیر-شانگلہ روڈ، پورن-مارتونگ روڈ اور شانگلہ-بیشام روڈ کے علاوہ پورن میں ڈگری کالج، ٹی وی بوسٹر اور نادرا دفاتر کے قیام جیسے اقدامات شامل ہیں۔ اسی طرح کیڈٹ کالج سوات سمیت بعض دیگر منصوبوں کا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔
وفاقی وزیر کی حیثیت سے موجودہ دور میں گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں بھی مختلف ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دی گئی ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق گلگت بلتستان میں ہنزل ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی استعداد 40 میگاواٹ تک بڑھانے، سیاحت اور تجارت سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے جبکہ آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع میں پانی کی فراہمی، پلوں اور رابطہ سڑکوں کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔
تعلیمی شعبے میں بھی وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت ملک بھر کے طلبہ میں لیپ ٹاپس کی تقسیم اور سوات یونیورسٹی میں ویمن کیمپس کے قیام جیسے اقدامات کا حوالہ دیا جاتا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی تنظیم سازی
انجینئر امیر مقام 2012 سے مسلم لیگ (ن) سے وابستہ ہیں اور اس وقت خیبرپختونخوا میں پارٹی کے صدر کی ذمہ داری انجام دے رہے ہیں۔ پارٹی کے مطابق انہوں نے صوبے میں تنظیم کو فعال بنانے اور کارکنوں سے رابطے بڑھانے میں کردار ادا کیا۔
ان کی سیاسی سرگرمیوں میں ملاکنڈ ڈویژن سمیت مختلف علاقوں کے کارکنوں اور عوام سے ملاقاتیں اور کھلی کچہریاں بھی شامل ہیں، جہاں شہری اپنے مسائل پیش کرتے ہیں۔
عوامی رابطہ اور کارکنوں سے تعلق
امیر مقام کے سیاسی طرزِ عمل میں عوامی رابطے کو بھی نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ سنگوٹہ سوات میں مسلم لیگ ہاؤس میں کھلی کچہریوں کے ذریعے شہریوں اور کارکنوں سے ملاقاتیں کی جاتی ہیں۔
ان کے سیاسی حلقوں کے مطابق پولیس شہداء اور سکیورٹی اہلکاروں سے متعلق تقریبات میں شرکت، شہداء کی یادگاروں پر حاضری اور ان کے اہل خانہ سے اظہارِ یکجہتی بھی ان کی سیاسی و سماجی سرگرمیوں کا حصہ ہے۔
امیر مقام نوجوانوں کو بھی سیاسی اور قومی ترقی کے لیے اہم قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کے بیانات میں نوجوانوں کی تعلیم، ترقی اور ان پر سرمایہ کاری کو مستقبل کے لیے اہم قرار دینے کا مؤقف سامنے آتا رہا ہے۔