اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت نے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کا مشترکہ وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ معاملات مذاکرات کے ذریعے حل ہوں، پاکستان کو ہولناک اثرات سے بچایا جا سکے اور ڈھائی سال کی محنت اور معاشی بحالی کو محفوظ رکھا جا سکے، تاہم دو روزہ مخلصانہ مذاکرات میں معاملات طے پانے اور حتمی مسودہ تیار ہونے کے باوجود اچانک پیش رفت روک دی گئی۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مذاکرات کے دوران معاملات طے پا گئے تھے اور حتمی مسودہ بھی تیار تھا، لیکن اچانک پیش رفت روک دی گئی۔ ان کے بقول، ایسا اس لیے ہوا کہ دوسری جانب کی نیت صاف نہیں تھی اور وہ ملک میں امن قائم نہیں ہونے دینا چاہتے تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے دوبارہ لانگ مارچ اور دھرنے منسوخ کرنے اور مذاکرات جاری رکھنے کی پیشکش بھی کی، لیکن اس کا کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔ انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کے خاندانوں سے ہمدردی کے دو بول تک نہیں کہے گئے۔

شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ حالات میں پانی سر سے گزر چکا ہے اور اس وقت جو گفتگو کی جا رہی ہے، وہ ناقابلِ بیان ہے۔ ان کے مطابق ایسے الفاظ اور خرافات سامنے آ رہی ہیں جنہیں زبان پر لانا بھی ممکن نہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج ملک کو اہم فیصلے کرنا ہیں، کیونکہ تاریخ قوموں اور قیادتوں کو ان کے فیصلوں کی بنیاد پر یاد رکھتی ہے۔ انہوں نے اس عزم پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں کیے جانے والے فیصلوں کے ملکی امن، استحکام اور معاشی بحالی پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔